فسادِ ثمود سے استعمارِ جدید تک: دینی شعور کی مزاحمتی جدوجہد اور عصرِ حاضر کے تقاضے | 07-08-2026
فسادِ ثمود سے استعمارِ جدید تک: دینی شعور کی مزاحمتی جدوجہد اور عصرِ حاضر کے تقاضے خطبۂ جمعۃ المبارک خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ : 23؍صفرالمظفر ۱۴۴۸ھ / 07؍ اگست 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی: وَكَانَ فِي الْمَدِينَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ وَلَا يُصْلِحُونَ۔ (27 – النمل: 48) ترجمہ:۔ ”اور اس شہر میں نو آدمی ایسے تھے، جو زمین میں فساد کرتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے“۔ 🔸 خطبۂ جمعہ: نکات ✔️ اجتماعیت‘ انسانی سماج کے لیے ناگزیر نیز قرآن حکیم کا انسانی سماج کی دنیا اور آخرت میں کامیابی کے لیے ایک مربوط نظامِ حیات ✔️ تعلق مع اللہ کی اساس پر انسانی سماج کے لیے صالح نظام کی ضرورت اور اہمیت ✔️ امام شاہ ولی اللہؒ کے نزدیک دین اسلام کے دو بڑے مقاصد: تہذیبِ نفس اور انسانی سوسائٹی کی سیاست ✔️ تہذیبِ اخلاق اور نظام المدینہ کے تناظر میں انسانی معاملات اور تعلقات کو درست خطوط پر نظام استوار کرنا ضروری ✔️ نظام کی حقیقت و ماہیت نیز سیاست کا مفہوم دائرہ کار؛ ریاستی نظام کی صحت اور مرض کی حالت کا جائزہ ✔️ سیاسةُ الفرس، سیاسةُ الجسم، سیاسةُ النفس اور سیاسةُ المنزل کے تناظر میں سیاست کے بنیادی مقصد و ہدف کی وضاحت ✔️ سیاسةُ المدینہ؛ مملکت کے نظام اور سیاست سے بحث کرنا‘ قرآنِ حکیم کا اہم ترین موضوع ✔️ خطبے کی مرکزی آیت میں قومِ ثمود (اصحابِ حِجر) کے قومی نظام کے فساد اور اس کے نتیجے میں نازل ہونے والے عذاب کی وجوہات ✔️ قرآنی اصطلاح ’مدینہ‘ کی توضیح و تشریح؛ مستقل تہذیب وتمدن اور سیاسی و معاشی شناخت رکھنے والی ریاست ✔️ قومِ ثمود کی نو بڑی مؤثر شخصیات اور ان کا فسادی کردار ✔️ قرآنی اصطلاحات کی تشریح؛ ’رھط‘ کا مفہوم اور حضرت سندھیؒ کی تشریح کی روشنی میں ’الارض‘سے مراد‘ ریاست و مملکت ✔️ قومِ ثمود کی لیڈر شپ کے قائم کردہ معاشی و سیاسی نظام کی خرابیاں ✔️ سسٹم چلانے والی قوتوں کا مکر و فریب اور انسانیت دشمنی کے فسادی کردار کا اگلا شاخسانہ؛ (نعوذباللہ) حضرت صالحؑ کے قتل کا منصوبہ ✔️ حضورؐ کو درپیش قومی چیلنجز اور حضرت صالحؑ کو درپیش قومی چیلنجز میں مماثلت ✔️ تیسرا بڑا فساد؛ قومِ ثمود کا پہاڑ سے اونٹنی پیدا کرنے کا مطالبہ ✔️ اونٹنی‘ دراصل ریاستی جرائم، مظالم اور قوم کے گناہوں کی تہہ در تہہ (compact) کی مجسم شکل میں قومِ ثمود پر اللہ کا عذاب بن کر ظاہر ہوئی ✔️ آج حضرت صالحؑ کی اونٹنی کی طرح کرپٹو کرنسی اور آرٹیفیشل انٹیلجنس‘ قوم کے وسائل کھا رہی ہے ✔️ معجزے کا مطالبہ، اس کے ظاہر ہونے کے بعد بھی کفر اور انکار پر قائم رہنا‘ معجزے کو فنا کرنے کے درپے اور عذابِ الہی میں گرفتار ✔️ اونٹنی کو قتل کرنے کے نتیجے میں پتھروں اور لینڈ سلائیڈنگ کا درد ناک عذاب ✔️ قران حکیم اور نبوی تعلیمات کا موضوع مملکت کا سیاسی نظام نیز دور کے سیاسی معاملات پر عقل و شعور کا حصول دینِ اسلام کا ایمانی تقاضا ✔️ قصص القرآن سے حاصل کردہ عبرت کے تناظر میں ’اصلاح فی الارض‘ اور ’فساد فی الارض‘ کی وضاحت سے مقصود موجود نظام پر بحث ✔️ نظام کی وضاحت نیز ہر نظام اپنے بنانے والی قوتوں کے فکر و نظریے کا عملی اظہار ہوتا ہے ✔️ مسلمان ایک فرد سے لے کر بین الاقوامی دائرے کا نظام‘ ملتِ مصطفویہ کے بیانیے کی اساس پر قائم کرتا ہے ✔️ بالائی نظام‘ ذیلی نظاموں پر اثر انداز ہوتا ہے جیسے انسانی جسم کا مرکزی نظام اور اس کے ذیلی نظام ✔️ رسول اللہؐ نے مسلمانوں کو ایک جسم (ریاستی تمدّن کی شناخت) کی مانند قرار دیا ہے ✔️ امام شاہ ولی اللہؒ نے مختلف ملتوں کی اساس پر چاروں ارتفاقات کے چاروں دائروں کے نظام پر گفتگو کی ہے ✔️ ملتِ حنیفیہ کی اساس پر رسول اللہؐ کے چاروں ارتفاقات سے متعلق جامع احکامات اور عملی کردار ✔️ دین اسلام کے غلبے کے دور میں ملت حنیفیہ (قرآن و سنت) کی اساس پر ایک ہزار سال تک خیر پر مبنی ارتفاقاتِ اربعہ کا نظام قائم رہا ✔️ اجتماعی معاملات میں غور و فکر اور تدبیر کے خیر ہونے کی تین اساسیات: انسانی معروفات، صدقات، اصلاح بین الناس نیز اس کے متضاد شرّ کی تین بنیادیں ✔️ گزشتہ تین سو سال سے خیر کے بجائے فساد اور شرّ کی بنیاد پر غلامی کا بیوروکریٹک اور عدالتی نظام مسلط ✔️ صالح معیاری نظام کے چار رہنما اصول؛ آزادی، عدل، امن اور معاشی خوشحالی ✔️ نظام کی خرابی لیکن آئین کے درست ہونے کے داخلی تضاد کا جائزہ ✔️ درست نظام کے چار خط و خال نیز اغیار کے غلامانہ تعلیمی نظام، غیر ملکی زبان اور توہم پرستی مقننہ و عدلیہ وانتظامیہ کے فرد اور نظام پر اثرات ✔️ نئے انتظامی یونٹس (ضلعوں اور صوبوں) کی تشکیل جغرافیائی، سماجی اور فطری اصولوں کی بنیاد پراختیارات و ذمہ داریوں کا واضح تعین ضروری ہے ✔️ نئے نظام کے قیام کے لیے اپنے سکول آف تھاٹ کی اساس پر نظریات و افکار کی منظم تعلیم و تربیت ضروری ہے ✔️ حقیقت پسندی کی اساس پر collapse نظام کا شعوری جائزہ اور نئے نظام کے قیام کے لیے ملتِ مصطفویہ کے سکول آف تھاٹ کی اساس پر نظریات و افکار کی منظم تعلیم و تربیت ضروری ہے بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔ https://www.rahimia.org/ https://web.facebook.com/rahimiainstitute/ https://www.youtube.com/@rahimia-institute منجانب: رحیمیہ میڈیا