Daroos Al Fouz Al Kabir

الفوز الکبیر | 11 | اصولِ حکمت کی اساس پر ہر حرفِ تہجی کا معنی | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

الفوز الکبیر | 11 | اصولِ حکمت کی اساس پر ہر حرفِ تہجی کا معنی | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
دُروس الفوز الکبیر فی اصول التفسیر از امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ (قرآن فہمی کے بنیادی اصولوں کا تعارف)درس : 11 اصولِ حکمت کی اساس پر ہر حرفِ تہجی کا معنی و مطلب (’’الخیر الکثیر ‘‘ کا اقتباس) (الفوز الکبیر کے بابِ چہارم کی فصل 5 کا مطالعہ) مُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇 0:00 آغاز درس 0:28 اصولِ حکمت کے مطابق ہر حرفِ تہجی (مقطعات) کا معنی و مطلب (''الخیر الکثیر '' کا اقتباس) 1:06 حروفِ مجہورہ و مہموسہ کی وضاحت 7:37 حرفِ الف: لین اور ہمزہ کی تعریف میں ''لا بشرطِ شیء'' کی تشریح اور ماہیت معلوم کرنے کے تین طریقے 13:21 ''الف'' کا مخرج اور غیب محض ''لا بشرطِ شیء'' کا معنی و مفہوم 20:03 ''ب'' کا مخرج و معنی اور فقہ اللغۃ کے اعتبار سے شاہ صاحبؒ کی وضاحت؛ مادی دنیا میں لزوم و ملاپ 25:43 ''ت'' و ''ث'' کا مخرج و معنی اور دونوں میں فرق 28:59 ''ج'' کا مخرج اور معنی (ایسی ماہیت جس میں قدسی و دنسی کا بغیر روشنی کے اختلاط ہو) 31:06 ''ح'' میں ''غیب بشرطِ شیء'' نیز ''الف'' اور اس میں بنیادی فرق 33:42 ''خ'' معنی میں ''ح'' کی طرح، لیکن اس میں لزوم و تخلیط کی معنویت کا اضافہ نیز نام کے شخصیت پر اثرات 39:02 ''د'' کے معنی میں انفکاک (الگ ہونا اور جدائی) لازمی و ضروری 40:06 ''ذ'' کے معنی میں ''د'' کی بہ نسبت لطافت و نرمی 40:45 ''ر'' کی معنویت میں ظہور کا تردد و تکرار 41:46 ''ز'' حرفِ ''ج'' کی طرح لیکن اس میں کچھ لطافت اور لزوم پایا جاتا ہے 42:38 ''س'' ایک چیز کا دوسری میں تصوراتی یا واقعی سرایت کرنا، اور ''ش'' کے معنی میں انطباق و شمول 44:25 ''ص'' کی معنویت میں بار بار لوٹنے والی رفعت و بلندی اور ''ض'' میں رفعتِ عودیہ کی صورت کی مزید گہرائی 45:39 ''ط'' میں غیب بشرطِ لا (شے کے معدوم ہونے کی شرط) اور اس کا مخرج 47:47 ''ظ'' میں کچھ لطافت کے ساتھ ایسا ظہور جو کہ روشن نہ ہو 48:21 ''ع'' میں ''ح'' کی معنویت کے ساتھ روشنی کی کرنیں پھوٹتی ہیں، نیز مشہور لغوی خلیل کے ہاں اس کا مقام و مرتبہ اور ''کتاب العین'' کی وجہ تسمیہ 54:05 ''غ'' میں مٹیالہ پن او روشنی و چمک نہیں ہوتی، جب کہ ''ف'' میں لفافہ بنتا ہے اور ''ت'' کی معنویت بھی پائی جاتی ہے 55:08 ''ق'' میں انتہاء درجے کا تحجّر (پتھر کی باڑ لگانا) شدت و قوت کا استعارہ جب کہ ''ک'' میں تحجّر کی کمی 56:56 ''ل'' میں اِبہام کو دور کرکے تعین کا معنی اور ''م'' میں تدنسِ تام (مکمل مادیت) 58:54 ''ن'' میں نور اور روشنی نیز نور اور ضوء میں فرق 1:00:02 ''و'' کبھی ''م'' اور کبھی ''ب'' کے معنی میں استعمال ہوتا ہے 1:00:31 ''ہ'' مادی دنیا کے عالم کا غیب (غیب عالم التخلیط) 1:01:36 ''ی'' ظہور و خفاء کے درمیان درمیان تردد پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان https://www.rahimia.org/ https://web.facebook.com/rahimiainstitute/