حساب صدقۂ فطر [برائے سال 1445ھ / 2024ء]

Mar 22, 2024

دین اسلام میں صدقہ فطر دینے کا حکم
إنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا، قَالَ: ’’أَمَرَ النَّبِیُّ ﷺ بِزَکَاۃِ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِیرٍ‘‘، قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْه: ’’فَجَعَلَ النَّاسُ عِدْلَه مُدَّیْنِ مِنْ حِنْطَةٍ‘‘۔ )الجامع الصّحیح للبُخاری، حدیث: 1507(
(حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ: ’’نبی اکرم ﷺ نے کھجور کا ایک صاع (3500 گرام) یا جو کا ایک صاع (3500 گرام) بہ طور صدقۂ فطر ادا کرنے کا حکم دیا‘‘۔ حضرت عبداللہؓ فرماتے ہیں کہ: ’’لوگوں (صحابہ کرامؓ) نے گندم کے دو مُد (1700 گرام کھجور کے ایک صاع یا جو کے ایک صاع) کے برابر قرار دیے‘‘۔) 

اس سال صدقہ فطر کی رقم کا حساب درجِ ذیل ہے:
گندم / آٹا  (1700 گرام) 300 روپے تقریبًا
جَو (3500 گرام) 500 روپے تقریبًا
کشمش (3500 گرام)  4500روپے تقریبًا
کھجور (3500 گرام) 1500 روپے

نوٹ: ہر صاحب ِاستطاعت شخص اپنی مالی حیثیت کے مطابق صدقہ فطر ادا کرے!

منجانب: 
ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور 
رحیمیہ ہاؤس، 33/A کوئینز روڈ (شارع فاطمہ جناح) لاہور
Ph: 0092-42-36307714 , 36369089