حدیث "دنیا مؤمن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے" کا درست مفہوم

Category
Hadith & Sunnah
Question

"نبی کریم ﷺ کی حدیث ہے کہ "دنیا مؤمن کے لیے قید خانہ ہے اور کافر کے لیے جنت ہے۔
اس حدیث مبارکہ کا درست مفہوم اور تشریح کیا ہے؟


Answer

​​الجواب وباللہ التوفیق

یہ حدیث مبارکہ اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ مؤمن کی زندگی اللہ تعالیٰ کے احکام اور شریعت کے ضابطوں کے تحت گزرتی ہے، جبکہ کافر کی زندگی ان حدود و قیود سے آزاد ہوتی ہے۔ پھر ایک مؤمن کا یہ یقین ہوتا ہے کہ دنیا کی زندگی سب کچھ نہیں بلکہ اصل اور دائمی زندگی آخرت کی ہے، جو راحت اور سکون سے بھرپور ہوگی۔ اسی وجہ سے اسے یہ دنیا ایک قید خانہ محسوس ہوتی ہے، کیونکہ یہاں مختلف آزمائشیں اور تکالیف پیش آتی ہیں۔
اس کے برعکس کافر کی نگاہ صرف اس مادی دنیا تک محدود ہوتی ہے، وہ آخرت اور دائمی زندگی پر ایمان نہیں رکھتا، اسی لیے وہ اس موجودہ زندگی کو ہی اپنی جنت سمجھتا ہے کہ اس کے بعد کچھ باقی نہیں۔
گویا مومن کی مثال قید خانہ میں محبوس اس شخص کی مانند ہے، جسے یہ یقین ہے کہ اس چار دیواری سے باہر ایک آزاد اور وسیع دنیا بھی ہے اور کافر کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو قید خانے کو ہی پوری دنیا سمجھتا ہے کیونکہ اسے اس کے باہر کی زندگی کا ادراک نہیں، اس لیے وہ اسی کو اپنی جنت تصور کرتا ہے۔
اس حدیث کا یہ منشا نہیں کہ مسلمان دنیوی زندگی کے حوالے سے اپنی بہتری اور ترقی کی کوشش نہ کریں اور اس کی نعمتوں سے استفادے سے خود کو محروم کر لیں، بلکہ ارشاد خداوندی ہے کہ: تمام اشیاء عالم، تمام انسانوں کی ملکیت ہیں کہ وہ ان کو اپنے کام میں لائیں [البقرة: 29] اور اپنی ضروریات پوری کریں، چناں چہ مؤمنین کی اِس دعا کو بطور مدح و تعریف کے ذکر کیا کہ: اے ہمارے رب! ہمیں اس دنیا میں بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی بھلائی عنایت کر [البقرة: 201]۔ اس لیے اہل ایمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ آخرت کی فلاح کے حصول کے 
حقیقی مقصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے دنیا کی بہتری کیلئے بھی جدوجہد اور کوشش کریں۔

(ماخوذ از زہد مفہوم اور تقاضے، صحیح مسلم کا خصوصی مطالعہ مؤلف، ڈاکٹر مفتی سعید الرحمن)

فقط واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب​​​

Venue
Swat
Date & Time
Apr 12, 2025 @ 08:51PM