زکوٰۃ اور پروویڈنٹ فنڈ

Question

میری والدہ، جو ایک سرکاری ملازم تھیں، اپریل 2021 میں انتقال کر گئیں۔ ان کے ورثاء کے طور پر، ہم ان کی ملازمت کو دوران ہی ان کی موت کے بعد ان کی گریجویٹی اور پروویڈنٹ فنڈ وصول کرنے کے حق دار تھے۔ تاہم حکومت نے ابھی تک ہمیں حقدار رقم ادا نہیں کی ہے۔ اپنی زندگی کے دوران ہماری والدہ  نے پراویڈنٹ فنڈ اور گریجویٹی پر زکوٰۃ ادا نہیں کی۔ میں درج ذیل سوالات پر آپ کی رہنمائی کی چاہتا ہوں: 
• اگر میری والدہ زندہ ہوتیں تو کیا ان پر پراویڈنٹ فنڈ اور گریجویٹی پر زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہوتا؟ اگر ایسا ہے تو کیا زکوٰۃ ایک سال کے بعد فرض ہوگی یا ادائیگی کے وقت؟ 
• کیا ان کے ورثاء کے طور پر، ہم پر ان کی طرف سے پچھلے سالوں کی زکوٰۃ ادا کرنے کی ضرورت ہے، اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ نہ وہ اور نہ ہی ہم اس رقم کے پروسیسرز تھے؟{یعنی وہ رقم ہماری تحویل میں نہیں تھی} 
• کیا ہم پر پروویڈنٹ فنڈ اور گریجویٹی پر زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہے؟ اگر ایسا ہے تو کیا زکوٰۃ ایک سال کے بعد ادا ہوگی یا ادائیگی وصول کرنے کے وقت؟ 
پیشگی شکریہ!
ارسلان۔

Answer

الجواب حامداً ومصلیا ومسلما:

پراویڈنٹ فنڈ یا گریجویٹی فنڈ کی رقم پر وصول ہونے سے قبل  زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی۔ وصول ہونے کے بعد اگر وہ شخص پہلے سے صاحب نصاب ہے تو پہلے سے موجود رقم کے ساتھ اس رقم کی  زکوٰۃ نکالنا بھی فرض ہے اور اگر صاحب نصاب نہیں تو قمری مہینوں کے اعتبار سے جب اس رقم پر سال مکمل ہو گا تو  زکوٰۃ نکالنا فرض ہو گی۔

واللہ اعلم باالصواب ۔

Date & Time
Nov 28, 2023 @ 06:44AM
Tags