تحریری طلاق کا حکم اور رجوع

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے عظام بیچ اس مسئلہ کے۔ کہ ایک شخص فارن جانے کے لئے سٹامپ پر بیوی سے علاحدگی/ طلاق لکھ دے، لیکن اس کا ارادہ طلاق دینے کا نہ ہو صرف ڈاکومنٹس میں ظاہر کر کے باہر جانا ہو، اس سٹامپ پر بیوی کے جعلی دستخط بھی کئے ہوں،لیکن اس سارے معاملے سے بیوی بے خبر ہے۔

Answer

 

اگر اس شخص نے طلاق کے صریح لفظ کے ساتھ بیوی کی طلاق لکھی اور اس بات پر کہ ' اس کا مقصد طلاق دینا نہیں اور یہ صرف جعلی طلاق نامہ ہے ' کسی کو گواہ نہیں بنایا تو اس صورت میں طلاق واقع ہو گئی ہے خواہ اس کی نیت ہو یا نہ ہو اور بیوی کو طلاق دینے کی خبر ہو یا نہ ہو،  

صورتِ مسئولہ میں اگر ایک یا دو طلاق لکھی ہیں تو طلاق رجعی ہو گی اور عدت کے اندر رجوع کیا جا سکتا ہے۔ اور اگر تین طلاق لکھی ہیں تو طلاقِ مغلظہ ہو گی، جس کے بعد رجوع نہیں ہو سکتا ہے۔

فقط واللہ اعلم

Venue
نوشہرہ
Date & Time
Jan 16, 2024 @ 12:20PM
Tags
No Tags Found