والد، بیوی اور بیٹیوں میں تقسیم میراث

Category
wirasat
Fatwa Number
0029
Question

السلام علیکم۔
12.5 کنال دادا وراثت ملکیتی زمین عبدالغفور کے نام تھی۔ 2015 میں عبدالغفور کا انتقال ہو گیا۔ اور ان کے بعد مندرجہ ذیل ورثہ ہیں۔
1. والد عبدالکریم
2. بیوی فوزیہ بی بی 
3. دو بیٹیاں ندا، سادیہ
4. ایک علاتی بہن مریم  اور ایک علاتی بھائی عبد الصمد
اب زمین کی تقسیم کیسے ہو گی راہنمائی درکار ہے۔

 

Answer

الجواب حامداً و مصلیا و مسلما:
مذکورہ ورثاء کے علاوہ کوئی اور وارث نہیں ہے تو مرحوم  کے حقوق متقدمہ (تجہیز و تکفین کا خرچہ، مرحوم پر کوئی  قرض ہو تو اس کی ادائگی اور  اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہے تو بقیہ ترکہ کے ایک تہائی میں اسے نافذ کرنے کے بعد) باقی منقولہ و غیر منقولہ ترکہ کو 24 حصوں میں تقسیم کر کے مرحوم کے والد کو 5 حصے، بیوی کو 3 حصے، دونوں بیٹیوں(سادیہ اور ندا) میں سے ہر ایک کو 8،8حصے ملیں گے یعنی 12.5 کینال زمین میں سے والد کو 52.08 مرلے بیوی کو 31.26 مرلے اور دو بیٹیوں میں سے ہر بیٹی کو 83.33 مرلے از روئے شریعت ملیں گے۔ باقی علاتی بہن بھائی (عبد الصمد اور مریم) وراثت سے محروم ہوں گے۔
فقط واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

Venue
LAHORE
Date & Time
May 14, 2024 @ 11:34AM
Tags