Category
Fatwa Number
Question
ہمارے ہاں اب بھی ایسے بے شعور مرد ہیں جنہیں لگتا ہے کہ انہوں نے بیوی کو تین وقت کا کھانا اور چھت دے دی تو اس کا حق ادا کر دیا۔ اس کے علاوہ بیماری کی حالت میں خیال رکھنا، گھر کے کاموں میں مدد، اچھے اخلاق سے پیش آنا اس کو معیوب سمجھا جاتا ہے جبکہ بیوی ہر حال میں خواہ وہ صحت سے ہو یا بیمار، ہر حال میں اسے اپنی ذمہ داری پوری کرنی ہے اور یہ ایک طرح کا رواج ہے کہ وہ کسی صورت انکار نہیں کرسکتی، خواہ شوہر کتنی ہی بے قدری کیوں نہ کر رہا ہو۔ ایسی صورت میں اگر بیوی تنگ آ چکی ہو یا مزید درگزر نہ کر سکتی ہو اور مجبوریوں کی وجہ سے گھر بھی نہ چھوڑ سکتی ہو تو وہ شوہر کے ساتھ اس کے رویے کے مطابق پیش آسکتی ہے۔ براہ کرم اس حوالے سے رہنمائی فرمائیں۔
Answer
میاں بیوی کے تعلق میں پیش آنے والے مسائل کا حل باہمی افہام و تفہیم ہے۔ اس سلسلے میں انتقام ہمیشہ بگاڑ کا سبب بنتا ہے، جس کا برا اثر نہ صرف ان کے باہمی تعلق پر پڑتا ہے بلکہ اولاد کی تربیت اور خاندان کے دیگر افراد کو بھی متاثر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لڑائی جھگڑے اور انتقامی سوچ پر قائم رشتے دیرپا ثابت نہیں ہوتے۔
لہذا عافیت اسی میں ہے کہ شوہر کے نامناسب رویے پر درگزر سے کام لیا جائے۔ مناسب موقع پر انہیں نرمی اور محبت سے احساس دلایا جائے۔ ضرورت پڑنے پر خاندان کے بزرگوں سے مشورہ اور رہنمائی لینا مفید ثابت ہوسکتا ہے۔
ازدواجی زندگی کی خوشگواری اور حالات کی بہتری کے لیے اللہ تعالٰی سے مسلسل دعا کرتی رہیں۔ اللہ پاک آپ کا حامی و ناصر ہو آمین۔
واللہ اعلم بالصواب
