سجدے کا مسنون طریقہ

Category
Ibadaat & Ikhbat e Ilahi
Fatwa Number
0547
Question

سجدے کا مسنون طریقہ کیا ہے؟

Answer

درجِ ذیل دو اَحادیث ِمبارکہ میں سجدے کا مسنون طریقہ واضح ہوجاتا ہے:

(1) حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ: ”آں حضرت ﷺ کو سات اعضا پر سجدہ کرنے اور سجدے کی خاطر اپنے بال اور کپڑے نہ سمیٹنے کا حکم دیا گیا۔“ سات اعضا یہ ہیں: پیشانی، دو ہاتھ، دو گھٹنے، دو پائوں۔ (صحیح بخاری، حدیث نمبر809)

عام طور پر سجدے میں صر ف دو گھٹنوں اور پیشانی پر زور ہوتا ہے، جو خلافِ سنت ہے۔ حدیث کی روشنی میں پیشانی کے ساتھ ناک اور دو ہاتھوں اور دونوں پائوں کی انگلیوں کا رخ قبلے کی طرف کر کے زمین پر ٹکا کر تمام اعضا پر برابر وزن دیا جانا چاہیے۔

(2) حضرت عبداللہ بن مالک بن بہینہؓ فرماتے ہیں کہ: ”آں حضرت ﷺ (سجدے کے دوران) اپنے دونوں ہاتھ کشادہ رکھتے تھے، یہاں تک کہ آپؐ کی بغلوں کی سفیدی ظاہر ہوجاتی۔“ (صحیح بخاری، حدیث نمبر 807) حدیث کی روشنی میں ضروری ہے کہ ہاتھ تکبیرِ تحریمہ کی طرح کانوں کی لَو کے برابر چہرے سے فاصلے پر ہوں۔ کہنیاں پہلوؤں سے جدا ہوں۔ سجدے میں رانیں بالکل سیدھی کھڑی ہوں۔

Venue
Lahore
Date & Time
Sep 23, 2026 @ 07:05PM
Tags
No Tags Found