ایک بیٹی اور چار بھتیجوں میں تقسیمِ ترکہ

Category
Testation & Inheritance
Fatwa Number
0528
Question

محترمہ جمیل اختر صاحبہ کی وفات ہو چکی ہے۔ ان کے ورثاء میں فقط ایک بیٹی اور چار بھتیجے ہیں۔ اس کے علاوہ شوہر، والدین، بیٹے، بھائی، بہن وغیرہ میں سے کوئی بھی وارث حیات نہیں۔ براہ کرم ان کی میراث کی تقسیم کا طریقہ کار بتا دیں۔

Answer

​مرحومہ کے ترکہ سے حقوقِ متقدمہ کی ادائیگی (یعنی تجہیز و تکفین کے متوسط اخراجات، مرحومہ کے ذمہ واجب الادا قرض کی ادائیگی، اور جائز وصیت کی صورت میں اسے ایک تہائی ترکہ تک نافذ کرنے) کے بعد، باقی ماندہ ترکہ 8 حصوں میں تقسیم ہوگا، جن میں مرحومہ کی بیٹی کو 4 حصے (%50) اور ہر بھتیجے کو ایک ایک حصہ (%12.5) از روئے شرع ملے گا۔

Venue
Hasan Abdal
Date & Time
Aug 27, 2026 @ 09:27AM
Tags
No Tags Found