”زنا ایک قرض ہے“ جملے کی شرعی حیثیت

Category
Hudud & Diyyat
Fatwa Number
0527
Question

یہ بات مشہور ہے کہ ”زنا ایک قرض ہے، جو زانی کے گھر والوں کو ادا کرنا پڑتا ہے۔“ کیا ایسا کہنا درست ہے؟

Answer

​ہر شخص اپنے برے اعمال کا خود ذمہ دار اور جواب دہ ہے۔ اس کے گناہوں کا وبال اور نتائج بذاتِ خود اسی پر مرتب ہوں گے؛ دیگر افراد محض تعلق یا رشتے کی بنیاد پر (اپنی استطاعت کے مطابق روکنے کے باوجود) اس کے گناہوں کے ذمہ دار نہیں ٹھہرائے جاسکتے، بلکہ وہ اس سے بریء الذمہ ہیں۔
​اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَ لَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ اِلَّا عَلَیْهَاۚ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى(1)
(اور جو شخص کوئی گناہ کرے گا تو وہ اسی کے ذمہ ہے، اور ایک شخص دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔) 

​لہذا جب کوئی شخص ایسے گناہ میں مبتلا ہو جائے تو اس کا وبال اور اس کے نتائج اسی کے ذمے ہیں۔ اگر اس کے گھر والے پاک دامنی اختیار کیے ہوئے ہوں تو اس شخص کے گناہ کا بدلا ان پر مرتب نہ ہوگا۔
​البتہ اس مہلک گناہ کی سنگینی اور اس کے اثراتِ مذمومہ کی قباحت بیان کرتے یہ جملہ بطورِ زجر و توبیخ (ڈانٹ ڈپٹ اور تنبیہ) کے ایسے شخص کے بارے میں کہا جاسکتا ہے جو کھلم کھلا زنا کرتا ہو اور اپنے اس فسق اور گناہ پر اصرار کرتا رہے تو اس کے گھر والوں کے دلوں سے بھی اس گناہ کی برائی ختم ہوجائے گی تو احتمال ہے کہ وہ بھی اس عمل میں مبتلا ہو جائیں (العیاذ باللہ)۔
بہر صورت ”زنا ایک قرض ہے، جو زانی کے گھر والوں کو ادا کرنا پڑتا ہے“ کو بطور شرعی اصول بیان کرنا درست نہ ہوگا۔ البتہ اس طرح کے الفاظ حضرت امام شافعیؒ کی طرف منسوب اشعار میں ملتے ہیں جن میں زنا کو قرض سے تشبیہ دی گئی ہے، لیکن ان کا مقصد بھی انسان کو زجر و توبیخ کے ذریعے اس فعل سے روکنا ہے۔ اشعار ملاحظہ ہوں:
(1) عِفُّوا تَعِفُّ نِسَاؤُكُمْ فِي الْمَحْرَمِ … وتَجَنَّبُوا مَالَا يَلِیْقُ لِمُسْلِمٖ
(2) إن الزِّنَا دَيْنٌ فَإِنْ أَقْرَضْتَهُ … كَانَ الْوَفَا مِنْ أَهْلِ بَيْتِكَ فَاعْلَمٖ
(3) يَا هَاتِكاً حُرَمَ الرِّجَالِ وَقَاطِعًا… سُبُلَ الْمَوَدَّةِ عِشْتَ غَيْرَ مُكَرّمٖ
(4) لَوْ كُنْتَ حُرًّا مِنْ سُلَالَةِ مَاجِدٍ…مَا كُنْتَ هَتَّاكًا لِحُرْمَةِ مُسْلِمٖ
(5) مَنْ يَّزْنِ يُزْنَ بِهٖ وَلَوْ بِجِدَارِہٖ ... إِنْ كُنْتَ يَا هٰذَا لَبِيبًا فَافْهَمٖ
​ ترجمہ:
(1) تم پاک دامنی اختیار کرو (اس کے اثر سے) تمہارے حَرم میں رہنے والی خواتین بھی پاک دامن رہیں گی، اور ایسے امور سے بچا کرو جو مسلمان کی شان کے لائق نہیں۔
(2) بلاشبہ زنا ایک قرض ہے، اگر تو نے یہ قرض لے لیا تو اس کی ادائیگی تیرے اہلِ خانہ میں سے (کسی فرد سے) ہوگی، یہ بات تو اچھی طرح جان لے۔
(3) اے لوگوں کی حرمتوں کو پامال کرنے والے! اور محبت کی راہوں کو قطع کرنے والے! (یاد رکھ! اس قبیح فعل کی وجہ سے) تو بے عزت اور رُسوا زندگی گزارے گا۔
(4) اگر تو کسی باعزت خاندان کا شریف النفس فرد ہوتا تو (کبھی بھی) کسی مسلمان (خاتون) کی حرمت پر دست درازی نہ کرتا۔
(5) جو زنا کرے گا تو (بدلے میں) اس کے ہاں بھی زنا ہوگا اگرچہ پسِ دیوار (ہی) ہو، اے انسان! اگر تو عقل مند ہے تو اس بات کو اچھی طرح سمجھ لے۔ (2)

​مذکورہ بالا اشعار در اصل تنبیہ اور عبرت کے لیے ہیں، ان کا یہ مفہوم سمجھنا کہ ضرور بہ ضرور زانی کے گھر والے (چہ جائیکہ پاکدامنی اختیار کریں) زنا میں مبتلا ہوں گے، درست نہیں۔

 واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب


(1) 6۔ الأنعام: 164
(2) دیوان الامام الشافعی، (کراچی، مکتبہ بیت العلم)، قافیۃ المیم، ص: 214

Venue
Jacobabad
Date & Time
Aug 15, 2026 @ 12:49PM
Tags
No Tags Found