عدت کے دوران نکاح کا حکم

Category
Nikah & Talaq
Fatwa Number
0494
Question

ایک لڑکے اور ایک لڑکی نے والدین کی اجازت کے بغیر دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح کرلیا۔ وہ دونوں میاں بیوی کے طور پر گاہے بگاہے ملتے رہے۔ لڑکی کے والدین کو علم ہونے پر انھوں نے ان دونوں کی سرزنش کی، جس کے بعد لڑکی کے والدین اشتعال میں آگئے اور فوری طور پر اس لڑکے سے طلاقِ بائنہ لے لی اور دوسرے ہی دن اس لڑکی کی شادی ایک دوسرے شخص سے کردی۔ یہ دوسرا نکاح شرعی طور پر درست ہے یا نہیں؟

Answer

والدین کی اجازت کے بغیر خفیہ طور پر نکاح کرنا اگرچہ نازیبا عمل ہے، لیکن جب اس میں دو گواہ موجود تھے تو شرعی طور پر نکاح کا انعقاد مکمل ہوگیا۔ اس لیے اس کے بعد اس وقت تک دوسرا نکاح کرنا درست نہیں، جب تک کہ پہلے شوہر سے طلاق لینے کے بعد اس کی عدت پوری نہ ہوجائے۔ اس لیے دوسرا نکاح درست نہیں ہے۔ دونوں کے درمیان فوری طور پر تفریق لازمی ہے۔

Venue
Lahore
Date & Time
Aug 08, 2026 @ 07:28PM
Tags
No Tags Found