حاملہ بیوہ، بیٹا اور دو بیٹیوں میں تقسیمِ ترکہ

Category
Testation & Inheritance
Fatwa Number
0493
Question

عمر کا انتقال ہوگیا۔ اس کے ورثا میں ایک بیوہ، ایک بیٹا اور دو بیٹیاں زندہ ہیں۔ والدین کا کافی عرصہ پہلے انتقال ہوچکا ہے، جب کہ عمر کی بیوہ حاملہ بھی ہے۔ متوفی کی میراث کیسے تقسیم ہوگی؟

Answer

متوفی عمر کی بیوہ چوں کہ حمل سے ہے، اس لیے وضع حمل تک اس کی میراث تقسیم نہیں ہوگی۔ اگر میراث کی تقسیم کی فوری ضرورت ہو تو حمل کو بیٹا تصور کرکے وراثت کو درجِ ذیل طریقے سے تقسیم کیا جائے گا۔ تجہیز و تکفین اور ادائیگی قرض اور اجرائے وصیت کے بعد متوفی عمر کی کل میراث کے اڑتالیس حصے کیے جائیں گے۔ جن میں سے بیوہ کو چھ اور ہر ایک بیٹی کو سات سات اور بیٹے کو چودہ حصے ملیں گے۔ حمل کے لیے بھی چودہ حصے امانتاً رکھے جائیں۔ اگر بیٹا پیدا ہو تو اس کا حصہ اس کی طرف سے اس کے ولی کے سپرد کیا جائے گا تاکہ بالغ ہونے کے بعد اس کو دیا جاسکے۔ اور اگر بیٹی پیدا ہوئی تو پہلی تقسیم کالعدم قرار دی جائے گی اور تقسیم میں کل ترکہ چالیس حصوں پر منقسم ہوگا، جس میں بیوہ کو پانچ، بیٹے کو چودہ، جب کہ ہر بیٹی کو سات سات حصے ملیں گے۔

Venue
Chishtian
Date & Time
Aug 08, 2026 @ 01:00PM
Tags
No Tags Found