دو بیوائوں، چار بھائیوں اور ایک بہن میں تقسیمِ ترکہ

Category
Testation & Inheritance
Fatwa Number
0505
Question

ڈاکٹر مختیار ولد محمد عالم وفات پاچکے، ان کے ورثا میں چار بھائی (صاحب عالم، بختیار عالم، افتخار عالم، زیب عالم) ایک بہن (شرافت بی بی) اور دو بیوائیں حیات ہیں۔ مرحوم کے ترکہ میں ایک گھر، دو گاڑیاں دو اپارٹمنٹ اور کچھ رقبہ زمین ہے۔ براہ کرم ڈاکٹر مختیار عالم مرحوم کا ترکہ شرعی اصولوں کے عین مطابق تقسیم کا تحریری فتویٰ جاری کیا جائے۔

Answer

صورتِ مسئولہ میں ڈاکٹر مختیار عالم ولد محمد عالم مرحوم کے ورثا میں دو بیویاں، چار بھائی اور ایک بہن مذکور ہیں۔ اگر مرحوم کے والدین، اولاد یا کوئی اور شرعی وارث موجود نہیں تھا تو تجہیز و تکفین کے مناسب اخراجات، مرحوم کے ذمہ واجب الادا قرض کی ادائیگی اور جائز وصیت کی صورت میں اسے ترکہ کے ایک تہائی تک نافذ کرنے کے بعد باقی ماندہ ترکہ تقسیم کیا جائے گا۔
ترکہ میں مذکور گھر، دو گاڑیوں، دو اپارٹمنٹس اور زمین وغیرہ کی موجودہ مارکیٹ قیمت تمام ورثا کی باہمی رضامندی سے مستند اور منصفانہ طریقے سے متعین کرائی جائے۔ اس کے بعد ان تمام منقولہ اور غیر منقولہ اموال کی مجموعی مالیت کو ترکہ قرار دے کر درج ذیل طریقے سے 24 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔
دونوں بیواؤں میں سے ہر ایک کو 3 حصے یعنی کل ترکہ کا 12.5 فیصد ملے گا۔
چاروں بھائیوں میں سے ہر ایک کو 4 حصے یعنی کل ترکہ کا 16.67 فیصد ملے گا۔
اکلوتی بہن کو 2 حصے یعنی کل ترکہ کا 8.33 فیصد ملے گا۔
اس طرح کل 24 حصے مکمل ہوجائیں گے۔ لہٰذا متعین شدہ مجموعی مارکیٹ قیمت کو 24 پر تقسیم کرکے ایک حصہ کی مالیت معلوم کی جائے گی، پھر ہر وارث کو اس کے مقررہ حصوں کے مطابق اس کی شرعی مالیت دی جائے گی۔ اگر کسی وارث کو کسی خاص جائیداد یا گاڑی کی صورت میں حصہ دیا جائے تو اس کی باہمی طور پر متعین شدہ مارکیٹ قیمت اس کے شرعی حصے میں شمار کی جائے گی۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب​

Venue
Peshawar
Date & Time
Jul 24, 2026 @ 12:57PM
Tags
No Tags Found