Category
Fatwa Number
Question
لفظ ”مکروہ“ کا ماخذ کیا ہے؟ کیا قرآن و حدیث میں یہ لفظ کہیں آیا ہے؟
Answer
”مکروہ“ بروزن اسم مفعول عربی زبان کے مصدر ”کراہۃ“ سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ہے ناپسندیدہ۔
قرآنِ کریم اور احادیثِ نبویہ میں متعدد مقامات پر لفظِ ”مکروہ“ یا اس کے مادہ (ك ر ه) سے مشتق مختلف صیغے استعمال ہوئے ہیں، جن میں کسی چیز کے ناپسندیدہ اور ناگوار ہونے کا مفہوم بیان کیا گیا ہے۔
جیسا قرآن حکیم کی سورۃ الاسراء آیت 38 میں ہے:
”كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا“
(اِن میں سے ہر ایک بات تیرے رب کے ہاں ناپسند ہے۔)
سورۃ الصف آیت نمبر 8 میں ہے:
”یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِــٴُـوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ اللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ“
(وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کا نور اپنے مونہوں سے بجھا دیں اور اللہ اپنا نور پورا کرکے ہی رہے گا اگرچہ کافر برا مانیں)
صحیح بخاری کی حدیث ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا: قِيلَ وَقَالَ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ“۔(1)
(اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تین باتوں: قيل وقال (لایعنی گفتگو) کثرتِ سوال اور مال ضائع کرنے کو ناپسند کیا ہے)
(1) صحيح البخاري، (دمشق، دار ابن كثير)، كتاب الزكاة، باب: قول الله تعالى: لا يسألون الناس إلحافا، 2/537، رقم : 1407
