یورپین ممالک میں پردے کا حکم

Category
Rights and Social Etiquette
Fatwa Number
0473
Question

موجودہ دور میں، خصوصاً یورپ جیسے معاشروں میں، جہاں بہت سے مسلمان خاندان نسل در نسل آباد ہیں, وہاں حجاب یا برقعہ پہننے والی مسلمان خواتین کو بعض اوقات مذہبی شناخت کی وجہ سے امتیازی سلوک (Discrimination)، نفرت پر مبنی جرائم (Hate Crimes)، تعلیم، ملازمت اور دیگر مواقع میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں شریعت کا کیا حکم ہے؟

Answer

شریعت مطہرہ کی روشنی میں جہاں فتنہ اور بے حرمتی کا قوی اندیشہ ہو، وہاں خواتین کے لیے پردے کی پابندی ضروری ہے، یہی وجہ ہے کہ آج کے پرفتن دور میں فقہاء نے خواتین کے لیے بغرض ضرورت پردہ کے بغیر گھر سے نکلنا ممنوع قرار دیا ہے۔
​یورپی ممالک میں، جہاں پردے کے بغیر فتنے میں پڑنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، وہاں بغرض ضرورت گھر سے نکلنے کی صورت میں:
​(1) اگر حکومت کی طرف سے پردے پر کوئی پابندی نہ ہو یا ایسی مشکلات جو معمولی اور قابلِ برداشت ہوں، تو فتنے اور گناہ سے بچنے کے لیے پردے کا اہتمام کرنا ضروری ہوگا۔
(2) البتہ جن ممالک میں خواتین کے پردہ کرنے پر قانونی پابندی ہو، یا معاشرتی دباؤ اور امتیازی سلوک کا سامنا ہو اور متبادل صورتیں (جیسے فیس ماسک لگانا، سکارف وغیرہ پہننا) بھی ناممکن ہو تو ایسی صورت میں شرعی اصول "الضرورات تبيح المحظورات" (ضرورتیں ممنوعہ اشیاء کو (بقدرِ ضرورت) مباح کر دیتی ہیں)، کے تحت ایسا باوقار اور کشادہ لباس زیبِ تن کیا جائے، جس سے جسم کی ساخت نمایاں نہ ہو اور حتّی الاِمکان پردے کے شرعی تقاضے پورے ہو سکیں۔​

Venue
Muscat, Oman
Date & Time
Jul 20, 2026 @ 08:59AM
Tags
No Tags Found