Category
Fatwa Number
Question
”اللہ تعالیٰ نے مجھے بھول کر اس گھر میں پیدا کردیا“ کہنے والے شخص کے بارے میں کیا حکم ہے؟
Answer
اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات ہر قسم کے نسیان (بھولنے) سے منزّہ اور پاک ہے،
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
”وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا“ (19- مریم: 64)
(اور آپ کا رب ہرگز بھولنے والا نہیں ہے)۔
مزید فرمایا:
”لَا يَضِلُّ رَبِّي وَلَا يَنسَى“ (52-طہ: 20)
(میرا رب نہ غلطی کرتا ہے اور نہ بھولتا ہے)۔
اگر کسی نے مشکلات و مصائب کا تذکرہ کرتے ہوئے غفلت اور جذبات میں آکر غیر ارادی طور پر ایسا کہا ہو تو ایسے الفاظ چونکہ اللہ تبارک وتعالی کی شان کے لائق نہیں اس لیے ایسے شخص کو اپنی لغزش پر ندامت (شرمندگی) کے ساتھ توبہ و استغفار کرنا ضروری ہے۔ تاہم اس سے تجدید ایمان و نکاح لازم نہیں آتا۔
لیکن واضح رہے کہ جان بوجھ کر اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف بھولنے کی نسبت کرنا کفر ہے۔ایسی صورت میں تجدیدِ ایمان لازم ہے اور شادی شدہ ہونے کی صورت میں تجدیدِ نکاح بھی ضروری ہے۔
