سوتیلی ماں کی فروعات (بیٹی، پوتی، پڑپوتی وغیرہ) سے نکاح کا حکم

Category
Nikah & Talaq
Fatwa Number
0461
Question

میرے والد کی جو سوتیلی ماں یعنی میری سوتیلی دادی ہے اس کی بیٹی، پوتی، پڑ پوتی، یا لکڑ پوتی سے میرے والد صاحب کا نکاح کرنا جائز ہے؟

Answer

​والد کی منکوحہ (جسے عرف میں سوتیلی ماں کہا جاتا ہے) محض عقدِ نکاح کی وجہ سے بیٹے پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوجاتی ہے، جیسا کہ قرآن کریم میں ہے:

وَلَا تَنْكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُمْ مِنَ النِّسَاءِ (1)
ترجمہ : ”اور ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپ نکاح کر چکے ہوں۔

البتہ اس سوتیلی ماں کی وہ بیٹی جو کسی دوسرے شوہر سے ہو، بیٹے کی محرم نہیں بنتی؛ لہٰذا اس سے نکاح کرنا شرعاً جائز ہے۔
ہاں، اگر سوتیلی ماں کی بیٹی خود اسی والد سے پیدا ہوئی ہو تو وہ لڑکے کی باپ شریک بہن ہوگی، اس لیے اس سے نکاح قطعی طور پر ناجائز اور حرام ہے۔
اسی اصول کی بنا پر اگر کسی شخص کی سوتیلی ماں (یعنی اس کے والد کی منکوحہ) کی کسی دوسرے شوہر سے بیٹی، پوتی، پڑپوتی یا اسی طرح کی دیگر اولاد ہو تو ان سے نکاح شرعاً جائز ہے؛ کیونکہ ان کے درمیان نسب، رضاعت یا مصاہرت کی کوئی ایسی حرمت قائم نہیں ہوتی جو نکاح کو ممنوع بنائے۔ 

واللہ تعالی اعلم بالصواب


(1) 4- النساء: 22

Venue
Sibi
Date & Time
Jul 16, 2026 @ 06:33PM
Tags
No Tags Found