”میں نے تمہیں چھوڑ دیا“ کہنے سے طلاق کا حکم

Category
Nikah & Talaq
Fatwa Number
0466
Question

میں اور میری بیوی کے درمیان جھگڑا ہو رہا تھا۔ میں نے ایک مرتبہ صرف بات ختم کرنے کے لیے کہا: "میں نے تمہیں چھوڑ دیا۔" میری نیت طلاق دینے کی نہیں تھی۔ کیا اس سے طلاق واقع ہو گئی؟

Answer

قرآن حکیم میں چھوڑ دینے کو طلاق کے معنی میں یا طلاق کے نتیجہ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے لہذا "میں نے تمہیں چھوڑ دیا" کے الفاظ طلاق کے حکم میں صریح (واضح) ہیں اور صریح الفاظ میں دی ہوئی طلاق بغیر نیت کے بھی واقع ہوجاتی ہے۔
​صورت مسئولہ میں جھگڑے کے دوران مذکورہ الفاظ کہنے سے بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہوگئی ہے، اس لیے اس پر عدت کے احکامات لاگو ہوں گے۔ عدت یعنی تین ماہواریاں ( اگر حمل نہ ہو اور اگر حمل ہو تو بچے کی پیدائش تک) مکمل ہونے سے پہلے شوہر کے پاس رجوع کرنےحق موجود ہے۔ اگر شوہر عدت کے دوران رجوع کرلیتا ہے تو نکاح برقرار رہے گا، لیکن اگر عدت ختم ہونے تک شوہر رجوع نہیں کرتا تو نکاح ختم ہونے کے ساتھ رجوع کرنے کا حق بھی ختم ہوجائے گا۔
عدت گزرنے کے بعد دونوں باہمی رضامندی سے دوبارہ ساتھ رہنا چاہیں تو مہرِ جدید کے ساتھ دو گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کرنا ضروری ہوگا، جس کے بعد شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا۔​

Venue
karachi
Date & Time
Jul 15, 2026 @ 07:29AM
Tags
No Tags Found