والدہ کے اصرار پر داڑھی کاٹنے کا حکم

Category
Prohibition & Legalization
Fatwa Number
0438
Question

میرے دوست نے سنتِ رسول کے مطابق داڑھی رکھی ہوئی ہے۔ بچپن سے لے کر ابھی تک نہیں کاٹی۔ اس کی عمر تقریباً 18 سے 19 سال ہے۔ والدہ اس سے کہتی رہتی ہیں کہ وہ اپنی داڑھی کٹوائے۔ اب اس صورتحال میں اس کو کیا کرنا چاہیے؟ کیا والدہ کا کہنا مان کر داڑھی کٹوا لے یا سنت رسول کے مطابق برقرار رکھے؟

Answer

داڑھی رکھنا تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی سنت، مسلمانوں کا امتیازی شِعار اور مرد کی فطری ہیئت کا حصہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے خود ہمیشہ داڑھی رکھی، صحابۂ کِرام رضی اللہ عنہم اجمعین بھی اس پر کاربند رہے اور آپ ﷺ نے داڑھی بڑھانے کا صریح حکم بھی ارشاد فرمایا۔ اسی بنا پر فقہائے امت نے واضح طور پر لکھا ہے کہ کم از کم ایک مشت داڑھی رکھنا واجب ہے، جبکہ اسے منڈانا یا ایک مشت سے کم کرنا جائز نہیں ہے۔
صورت مسئولہ میں جب ایک طرف شریعت کا واجب حکم ہے اور دوسری طرف والدہ کا اس کے خلاف اصرار، تو ایسی صورت میں واجبِ شرعی پر ثابت قدم رہنا ضروری ہے۔ تاہم والدہ محترمہ کے ساتھ حسنِ سلوک، ادب اور محبت کا دامن ہرگز ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے، بلکہ ہر مناسب موقع پر نرمی، احترام اور حکمت کے ساتھ انہیں سمجھانے کی کوشش کی جائے۔ اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے ہدایت، شرحِ صدر اور حق بات قبول کرنے کی دعا بھی کرنی چاہیے۔​

Venue
Rawalpindi
Date & Time
Jun 30, 2026 @ 04:06PM
Tags
No Tags Found