میت پر قرآنی آیات و اذکار والی چادر ڈالنا/ کفن پر کلمہ شہادت لکھنا

Category
Rulings for the deceased
Fatwa Number
0430
Question

ہمارے گاؤں میں بعض لوگ میت کے کفن پر کلمۂ شہادت لکھ دیتے ہیں، نیز میت کو قبر میں اتارنے کے بعد اس پر آیاتِ قرآنیہ، اذکار یا درود شریف لکھی ہوئی چادر بھی ڈال دیتے ہیں۔ ان کا شرعی حکم کیا ہے؟

Answer

میت کے کفن پر کلمہ شھادت لکھنا جائز نہیں، البتہ اگر روشنائی کے بغیر صرف انگلی کے اشارے سے کلمہ لکھ دیا جائے تو اس کی گنجائش ہے۔ نیز میت پر قرآنی آیات، اذکار یا درود شریف والی چادر ڈالنا بھی میت کے بدنی رطوبات سے ملوث ہونے کے سبب خلافِ ادب ہے، جس سے بچنا چاہیے۔اس طرح کے ایک سوال کے جواب میں مفتی اعظم حضرت مفتی کفایت اللہ دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”کفن پر کسی ایسی چیز سے کلمہ لکھنا کہ جس سے نقش ظاہر ہو جائیں، جائز نہیں۔ صرف انگلی سے لکھ دینا مباح ہے کہ نقش ظاہر نہ ہوں“۔ مزید فرماتے ہیں کہ ”عہد نامہ یا کوئی اور لکھی ہوئی چیز کفن یا قبر میں رکھنا جائز نہیں ہے“(1)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب


(1) کفایت المفتی، (ملتان، مکتبہ امدادیہ)، کتاب الجنائز، دوسرا باب: میت کی تجہیز و تکفین، 53،48/4

Venue
Liaqatpur
Date & Time
Jun 25, 2026 @ 12:05PM
Tags
No Tags Found