Category
Fatwa Number
Question
ایک شخص حاجی غلام رسول صاحب فوت ہوئے، ان کی تین بیویوں میں سے دو حیات ہیں جبکہ ایک ان کی وفات سے پہلے ہی فوت ہوچکی تھیں۔ ان کی اولاد میں 11 بیٹیاں اور 10 بیٹے ہیں، 11 بیٹیوں میں سے ایک (خیر بی بی) والد صاحب کی وفات کے بعد فوت شدہ ہے اور وہ والد صاحب کی وفات سے پہلے فوت شدہ بیوی کی اولاد میں سے ہے۔ باقی 10 بیٹے اور 10 بیٹیاں دو حیات بیواؤں کی اولاد ہیں۔
مرحوم حاجی غلام رسول کے ترکہ کی تقسیم مذکورہ بالا ورثا کے درمیان کس طرح ہوگی؟
مرحومہ خیر بی بی کو اپنے والد کی میراث سے ملنے والا حصہ ان کے موجود ورثا (شوہر، دو بیٹوں اور دو بیٹیوں) کے درمیان کس طرح تقسیم ہوگا؟
Answer
سب سے پہلے مرحوم کی کل جائیداد (منقولہ و غیر منقولہ) میں سے بالترتیب درجِ ذیل کو منہا کیا جائے گا۔
(1) مرحوم کی تجہیز و تکفین کا خرچہ،
(2) مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اس کی ادائیگی،
(3) اگر مرحوم نے احکامِ شریعت کے مطابق کوئی جائز مالی وصیت کی ہو تو زیادہ سے زیادہ ایک تہائی 1/3 مال میں سے اس کی ادائیگی۔
ان امور کے بعد کل بقیہ متروکہ جائیداد (منقولہ و غیر منقولہ ) کو 248 حصوں میں تقسیم کرکے دو بیواؤں کو 31 حصے (%12.5) دس بیٹوں میں سے ہر ایک کو 14، 14 حصے (%5.65) اور گیارہ بیٹیوں میں سے ہر ایک کو 7،7 حصے (%2.82) از روئے شرع ملیں گے۔
مرحومہ کی وفات سے قبل فوت ہو جانے والی بیوی شرعاً وارث نہیں بنے گی، لیکن مرحوم کی بیٹی (خیر بی بی) چونکہ مرحوم کی وفات کے بعد فوت ہوئی ہے، اس لیے وہ اپنے والد کے ترکہ میں حصہ کی مستحق ہوگی، لیکن ترکہ کی تقسیم سے قبل وہ وفات پاچکی ہیں، اس لیے ان کا حصہ (ان کے دیگر اموال منقولہ و غیر منقولہ کو ملا کر) کل 24 حصوں میں کیا جائے گا، جو کہ ان کے شرعی ورثا میں درج ذیل تناسب میں تقسیم ہوگا:
(1)مرحومہ کے شوہر کو کل ترکہ کے 6 حصے (%25)
(2) دو بیٹوں میں سے ہر ایک کو 6،6 حصے (%25)
(3) اور دو بیٹیوں میں ہر ایک کو 3،3 حصہ (%12.5) ملیں گے۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
