بینک میں جمع شدہ رقم پر حاصل ہونے والے منافع کا حکم

Category
Sales and Dealings
Fatwa Number
0425
Question

میرے والد صاحب نے اپنی پنشن کی رقم بینک میں جمع کروائی تھی اور ان کی وفات کے بعد کاغذی کارروائی میں تاخیر کی وجہ سے گزشتہ دو تین سال کا منافع نہیں مل سکا، جو اب تقریباً 10 لاکھ روپے کی صورت میں ملنے کا امکان ہے۔ زندگی میں اس سرمایہ پر ملنے والا ماہانہ منافع بھی وصول کیا جاتا رہا جو تقریباً 25 سے 30 ہزار روپے بنتا تھا۔ اب ورثاء میں اختلاف ہے کہ آیا یہ جمع شدہ منافع استعمال کیا جا سکتا ہے یا اصل رقم لے کر منافع صدقہ کر دیا جائے؟ اس صورت میں اصل رقم پر ملنے والے منافع کا شرعی حکم کیا ہے؟

Answer

بینک میں رقم جمع کرانا شرعی اعتبار سے اس ادارے کو قرض دینے کے حکم میں ہے اور اس پر ملنے والا متعین اضافہ سود (ربا) ہے، جس سے بچنے کا قرآنِ کریم میں حکم دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ(1) 
​اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو، اگر تم ایمان والے ہو۔​

لہٰذا والد مرحوم کی جمع کردہ اصل رقم ترکہ کا حصہ ہے اور ورثاء اپنے شرعی حصص کے مطابق اس کے مالک ہوں گے۔ البتہ گزشتہ دو تین سال کا جو بھی منافع وصول ہوگا، وہ سود ہے، اس لیے اسے استعمال کرنا جائز نہیں، بلکہ سودی رقم کو ثواب کی نیت کے بغیر فقراء و مساکین کو دے کراس سے نجات حاصل کی جائے-

فقط واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب


(1) 2-البقرۃ: 278

Venue
Rawalpindi
Date & Time
Jun 10, 2026 @ 06:42AM
Tags
No Tags Found