بیوہ، بیٹی اور تین بھائیوں میں تقسیم ترکہ

Category
Testation & Inheritance
Fatwa Number
0404
Question

ایک شخص محمد طارق ولد محمد اشرف فوت ہوا، اس کے ورثا میں بیوہ، دس سال کی ایک بیٹی اور تین بھائی (امجد محمود، محمد ریاض اور محمد خالد) ہیں۔ والدین فوت شدہ ہیں، بہن بھی کوئی نہیں۔ شرعی حوالے سے رہنمائی فرمائیں کہ مرحوم محمد طارق کے ترکہ میں موجود نقد رقم، کمرشل جگہ اور زرعی زمین کی تقسیم مذکورہ بالا ورثا کے درمیان کس طرح ہو؟

Answer

صورت مسئولہ میں مرحوم محمد طارق کے حقوق متقدمہ (تجہیز و تکفین کے اخراجات، ان پر کسی کا قرض ہو تو اس کی ادائیگی اور اگر انہوں نے اپنی حیات میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو کل ترکہ کے ایک تہائی میں اسے نافذ کرنے) کے بعد باقی کل منقولہ و غیر منقولہ ترکہ 8 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو 1 حصہ یعنی کل ترکہ کا (%12.5)، مرحوم کی اکلوتی بیٹی کو 4 حصے یعنی کل ترکہ کا (%50) اور باقی ترکہ مرحوم کے تین بھائیوں میں برابر تقسیم ہوگا، چنانچہ ہر بھائی کو ایک حصہ یعنی کل ترکہ کا (%12.5) از روئے شرع ملے گا۔

Venue
Wah Cantt
Date & Time
May 31, 2026 @ 02:29PM
Tags
No Tags Found