بھائی، بہن اور ان کی اولاد میں تقسیمِ ترکہ

Category
Testation & Inheritance
Fatwa Number
0401
Question

ایک شخص جناب شیر محمد انتقال کر گئے ہیں۔ ان کی کوئی اولاد نہیں ہے اور ان کی اہلیہ بھی پہلے وفات پاچکی ہیں۔ مرحوم کے ورثا میں ایک بھائی جناب نور محمد حیات ہیں، جن کی اولاد میں چار بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔ اسی طرح مرحوم کے دوسرے بھائی سکندر حیات پہلے وفات پاچکے ہیں، جن کے پانچ بیٹے تھے، جن میں سے ایک کا انتقال ہوچکا ہے، جبکہ باقی چار بیٹے حیات ہیں۔ علاوہ ازیں مرحوم کی ایک بہن پہلے وفات پاچکی ہیں اور ایک بہن حیات ہیں۔
دریافت طلب امر یہ ہے کہ مرحوم شیر محمد کا ترکہ شرعی اعتبار سے کن ورثا میں اور کس تناسب سے تقسیم ہوگا؟

Answer

صورت مسئولہ میں مرحوم شیر محمد کے حقوق متقدمہ (تجہیز و تکفین کے اخراجات، ان پر کسی کا قرض ہو تو اس کی ادائیگی اور اگر انہوں نے اپنی حیات میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو کل ترکہ کے ایک تہائی میں اسے نافذ کرنے) کے بعد باقی کل منقولہ و غیر منقولہ ترکہ تین حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جن میں سے مرحوم کے بھائی نور محمد کو دو حصے یعنی کل ترکہ کا (%66.66) فیصد جب کہ مرحوم کی بہن کو ایک حصہ یعنی کل ترکہ کا (%33.33) فیصد از روئے شرع ملے گا۔ البتہ مرحوم کے جو بھائی اور بہن ان کی وفات سے پہلے انتقال کرچکے ہیں، وہ شرعاً وارث نہیں بن سکتے، اس لیے ان کا ترکہ میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ اسی طرح مرحوم کے بھائیوں کی اولاد یعنی بھتیجے اور بھتیجیاں بھی ترکہ سے محروم ہوں گی۔

Venue
Jhang
Date & Time
May 25, 2026 @ 12:07PM
Tags
No Tags Found