Category
Qurbani & Aqiqah
Fatwa Number
0399
Question
تین افراد نے باہمی شراکت سے تین لاکھ روپے مالیت کا ایک جانور خریدا۔ بعد ازاں انہوں نے اس جانور کو پانچ حصوں میں تقسیم کرنے کا ارادہ کیا۔ شراکت کی تفصیل یہ ہے کہ دو افراد میں سے ایک نے ایک لاکھ بیس ہزار روپے دیے، جبکہ تیسرے شخص نے صرف ساٹھ ہزار روپے ادا کیے۔ اس حساب سے پانچ حصوں میں ہر حصے کی مالیت ساٹھ ہزار روپے بنتی ہے۔ چنانچہ ایک شریک کو ایک حصہ اور باقی دو شرکا کو دو، دو حصے دینے کی تجویز ہے۔
دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ طریقۂ تقسیم شرعاً درست اور جائز ہے یا نہیں؟
Answer
بڑے جانور میں اگر سات سے کم افراد ہوں تو بھی قربانی درست ہو جاتی ہے، البتہ شرط یہ ہے کہ ہر شریک کا کم از کم ایک کامل حصہ ہونا چاہیے۔
صورت مسئولہ میں تین افراد کا جانور کو تقسیم کرنا، اس طور پر کہ دو افراد کو دو، دو حصے اور ایک فرد کو ایک حصہ دیا جائے، شرعاً درست اور جائز ہے۔
Venue
Lahore
Date & Time
May 24, 2026 @ 03:05PM
Tags
No Tags Found
