Category
Fatwa Number
Question
میں اپنے والدِ محترم کے ساتھ مل کر ایک کمپنی چلا رہا ہوں، جس کا آغاز 2005ء میں ہوا تھا۔ اس وقت میرے والد صاحب اور بھائی کے 50، 50 فیصد حِصَص تھے۔ میرے والد صاحب نے 2012ء میں مجھے کمپنی میں 25 فیصد شیئر کے ساتھ شامل کیا، لیکن بعد میں 2014ء میں میرے بھائی نے کمپنی اور اپنا حصہ چھوڑ دیا۔ اب میں اور میرے والد صاحب برابر کے پارٹنر ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ میرے والد صاحب نے ہماری پارٹنرشپ ڈِیڈ (شراکت نامہ) میں یہ لکھ دیا ہے کہ اُن کی وفات کے بعد اُن کے تمام حصص مجھے منتقل کر دیے جائیں گے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ شرعاً ممکن ہے کہ میں ان کے تمام حصص کا مالک بن جاؤں؟ یا مجھے شریعت کے مطابق اپنے والد کے حصے کو تقسیم کرنا ہوگا؟
Answer
(1) اگرمُستَفتِی (مسئلہ پوچھنے والے) کے والد صاحب نے اپنی زندگی میں باقاعدہ طور پر کمپنی کے اپنے تمام حصص مستفتی کو ہبہ (گفٹ) کردیے اور ان کا مکمل قبضہ و اختیار بھی عملاً مستفتی کے حوالے کردیا تو ایسی صورت میں وہ حصص مستفتی کی مِلکِیت شمار ہوں گے۔ والد صاحب کی وفات کے بعد یہ ان کا ترکہ شمار نہیں ہوں گے۔
(2) البتہ اگر محض شراکت نامہ میں یہ لکھ دیا گیا ہو کہ والد صاحب کی وفات کے بعد تمام حصص مستفتی کو منتقل کردیے جائیں یا اس طرح کا کوئی اور جملہ جو مستفتی کی ملکیت کو ثابت کر رہا ہو جبکہ والد صاحب کی زندگی میں ان حصص کی ملکیت، قبضہ اور اختیار بدستور والد صاحب ہی کے پاس رہے، تو شرعاً یہ ہبہ مکمل اور نافذ نہیں ہوگا ؛ کیونکہ ہبہ کے عقد کے مکمل ہونے کے لیے قبضہ ضروری ہے۔ لہٰذا اس صورت میں کمپنی کے وہ حصص والد صاحب کے ترکہ میں شامل شمار ہوں گے۔ دیگر منقولہ و غیر منقولہ اموال کی طرح شرعی ورثا کے درمیان تقسیم کیے جائیں گے۔
(3) البتہ والد صاحب اگر اپنی زندگی میں، واقعی اپنے حصص مستفتی کو منتقل کرنا چاہتے ہیں تو شرعی ہبہ کے تقاضے پورے کرتے ہوئے زندگی ہی میں مکمل ملکیت اور قبضہ منتقل کرسکتے ہیں، تاہم والد صاحب کے لیے مناسب یہ ہے کہ ہبہ کرتے وقت تمام اولاد کو ملحوظ رکھیں؛ کیوں کہ بعض اولاد کو دینا اور بعض کو محروم کرنا شرعاً ناپسندیدہ ہے۔ اسی طرح بلا وجہ کسی ایک کو دوسرے پر ترجیح دیتے ہوئے زائد دینا بھی خلافِ انصاف ہے۔ اولاد کے درمیان ہبہ میں عدل و انصاف کا خیال رکھنا چاہیے۔
