بہو کے حق میں زمین کی منتقلی کا حکم

Category
Ijara (renting) & Hiba (gifting)
Fatwa Number
0377
Question

ساس نے اپنی بہو کے لیے حق مہر والے خانے میں اپنا بیان لکھوایا تھا، جس کے الفاظ درج ذیل ہیں : ”زینو مائی دختر غلامو قوم سیہڑ کی زمین موضع راکھواں میں موجود ہے ایک ایکڑ مشرق طرف اپنی بہو نسیم مائی دختر محمد ظفر کو انتقال کروں گی.“۔ نکاح ہوئے تقریباً 30 سال ہو گئے ہیں، لیکن ساس نے ایک ایکڑ زمین بہو کو منتقل نہیں کی۔ پوچھنا یہ ہے کہ:
(1) بہو اپنی ساس سے اس ایک ایکڑ زمین کا مطالبہ کر سکتی ہے یا نہیں؟
(2) نکاح کی صحت پر کیا فرق پڑے گا؟

Answer

(1) اگر مذکورہ بالا بیان درست اور سچائی پر مبنی ہے تو بہو کے لیے ساس سے ایک ایکڑ زمین کا مطالبہ کرنا درست اور جائز ہے۔ ساس کو چاہیے کہ اپنے بیان کے مطابق بہو کو ایک ایکڑ زمین منتقل کردے۔
(2) ذکر کردہ صورت میں نکاح کی صحت پر کچھ فرق نہیں پڑے گا۔​

Venue
Lahore
Date & Time
May 12, 2026 @ 12:38AM
Tags
No Tags Found