Category
Fatwa Number
Question
اگر کوئی شخص رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرے اور حکومتِ وقت اسے گرفتار کر لے، پھر وہ دورانِ حراست توبہ کرلے، جب کہ یہ معلوم نہ ہو کہ اس نے توبہ صدقِ دل سے کی یا سزا کے خوف سے کی۔ تو کیا اس توبہ کی بنیاد پر اسے رہا کیا جا سکتا ہے؟
Answer
رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ اقدس شعائرِ اسلام میں سے ہے۔ اہلِ ایمان کے لیے آپ ﷺ کی ہستی ایمان، محبت، تعظیم اور توقیر کا بڑا مرکز ہے۔ اسی لیے آپ ﷺ کی شانِ اقدس میں ادنیٰ گستاخی بھی سنگین جرم، عظیم گناہ، موجبِ ارتداد اور امتِ مسلمہ کے دینی جذبات کو شدید مجروح کرنے کا سبب ہے۔
فقہاءِ امت نے صراحت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی مسلمان کے حق میں ارتداد ہے۔
البتہ یہ تعین کرنا کہ الفاظ صریح گستاخی کے زمرے میں آتے ہیں یا ان میں کسی معتبر تاویل کی گنجائش موجود ہے۔ یہ ایک حساس اور دقیق معاملہ ہے۔ اس میں الفاظ کے محل، سیاق و سباق، اندازِ بیان، متکلم کی مراد اور مجموعی قرائن کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے، اور یہ فیصلہ عدالت اور اہلِ اقتدار کا کام ہے۔ کسی عام فرد کو شرعاً یہ حق حاصل نہیں کہ وہ خود کسی شخص کے کفر یا ارتداد کا حکم لگا کر اس کے خلاف اقدام کرے۔
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعی اس شخص نے (نعوذ باللہ) رسول اللہﷺ کی شان میں گستاخانہ کلمات کہے ہیں تو گرفتاری کے بعد اپنے قول سے رجوع کرتے ہوئے توبہ و استغفار، تجدیدِ ایمان اور شادی شدہ ہونے کی صورت میں تجدید نکاح بھی کرے۔ محض یہ احتمال کہ اس نے خوفِ سزا کی وجہ سے توبہ کی ہے، اس کی توبہ کو شرعاً کالعدم قرار دینے کے لیے کافی نہیں ؛ کیونکہ دنیاوی احکام ظاہر پر جاری ہوتے ہیں، جبکہ دلوں کے احوال کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔
تاہم اس معاملے میں حتمی فیصلہ کا اختیار عدالت کا ہے، کسی فرد یا گروہ کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے اور ازخود کوئی اقدام کرنے کی اجازت نہیں۔
