ادھار پر خریدے گئے جانور کی قربانی کا حکم

Category
Qurbani & Aqiqah
Fatwa Number
0366
Question

ایک مسئلے میں شرعی رہنمائی درکار ہے کہ محمد زاہد سال پہلے نیت کرتا ہے کہ میں آنے والے سال عید قرباں میں ان شاء اللہ بکرا قربان کروں گا۔ اس سلسلہ میں وہ اپنے بھائی محمد شاہد، جس کے پاس ایک بکرا ہے طے کر لیتا ہے کہ تم اپنا بکرا کسی کو بیچنا نہیں، عید کے قریب جو بھی قیمت لگے گی، میں وہ ادا کر کے قربانی کے لیے خرید لوں گا۔ لیکن محمد زاہد کی کچھ مہینوں سے کمپنی کی طرف سے تنخواہ رکی ہوئی ہے اور وہ فی الوقت بکرے کی خریداری کی رقم ادا نہیں کر سکتا۔ کیا ایسے میں کہ جب اس کے پاس فوری ادائیگی کے لیے رقم نہیں، وہ قربانی نہ کرے یا جیسا کہ اس نے نیت کی ہوئی تھی وہ محمد شاہد سے ادھار پر جانور خرید لے اور بعد میں جب اس کی تنخواہ آجائے تو ادھار کی رقم واپس کردے۔ کیا اس طرح ادھار میں خریدے گئے جانور کی قربانی ہو جائے گی؟ نیز ادھار لین دین پر دونوں فریق متفق ہیں۔

Answer

جس شخص کی ملکیت میں 10 ذی الحجہ کے طلوع شمس سے لے کر 12 ذی الحجہ کے غروب آفتاب سے قبل تک، ساڑھے سات تولے سونا یا اس کے برابر نقدی (رقم) یا ساڑھے باون تولے خالص چاندی ہو یا مالِ تجارت ہو یا ضرورت سے زائد گھریلو سامان اور جائیداد ہو، ان میں سے کسی ایک، دو یا سب کی مجموعی مالیت ساڑھے سات تولے سونے کو پہنچتی ہو تو ایسے عاقل بالغ مقیم مالدار شخص پر قربانی واجب ہے۔ لہذا اگر محمد زاہد اس قدر مال دار ہے تو اس پر قربانی واجب ہے، ایسی صورت میں ادھار پر جانور خرید کر قربانی کر سکتا ہے۔ اگر وہ اس پہلو سے مال دار نہیں اور نفلی قربانی کرنا چاہتا ہے تو بھی ادھار جانور خرید کر قربانی کر سکتا ہے۔ بعد میں رقم ہونے پر، قربانی کے لیے خریدے ہوئے جانور کی قیمت ادا کر دے۔

Venue
Karachi
Date & Time
May 04, 2026 @ 06:40AM
Tags
No Tags Found