شہری سہولیات سے آراستہ مرکزی گاؤں میں نمازِ جمعہ و عیدین کی ادائیگی کا حکم

Category
Ibadaat & Ikhbat e Ilahi
Fatwa Number
0355
Question

ہمارا گاؤں بلکوٹ، نصرت خیل، ضلع تورغر (اولڈ ایف آر مانسہرہ) تقریباً 5 سو گھروں اور تقریباً دو ہزار بالغ نفوس (مرد و عورت) پر مشتمل ہے۔ اس میں ایک بڑی مرکزی مسجد کے علاؤہ پانچ چھوٹی بڑی ایسے مساجد ہیں جن میں باقاعدہ پنج وقتہ نمازوں کا اہتمام ہوتا ہے۔ تقریباً تیس سال پہلے تک یہاں عیدین اور جمعہ کی نمازیں ادا کی جاتی رہی ہیں, لیکن پھر کچھ ہم جیسے دینی مدارس کے طلباء کے فقہی اعتراضات کی وجہ سے پرانے علماء نے جمعہ اور عیدین کی نمازوں کا اجتماع بند کر دیا۔ اس وقت ہمارے مذکورہ گاؤں میں نہ سڑک تھی اور نہ ہی کوئی اور قابلِ ذکر شہری سہولیات، بلکہ یہ علاقہ غیر کہلاتا تھا۔ اب یہ علاقہ 2010 میں ضلع بھی ڈکلیئر کر دیا گیا اور گاؤں میں سڑک بھی آگئی ہے۔ دیگر ضروری شہری سہولیات مثلاً جدید ذرائع ابلاغ (موبائل) کی دستیابی، پرائیویٹ طور پر نرسنگ کی سہولت، ضروری اشیائے صرف کی فراہمی وغیرہ ہے۔ یہ گاؤں بلکوٹ ضلعی صدر مقام سے صرف 4 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور پوری وادئ نصرت خیل کے تقریباً سولہ سترہ گاؤں کا مرکزی گاؤں ہے اور اس کی مسجد پوری وادی میں سب سے بڑی مسجد ہے۔ ان ساری تفصیلات کے بعد دریافت یہ کرنا تھا کہ مذکورہ گاؤں میں جمعہ و عیدین کی نمازیں ہوسکتی ہیں؟ اور اگر ہوسکتی ہیں تو حکم کی نوعیت وجوب کی ہوگی یا جواز و استحباب کی؟ (اس کے ساتھ یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ تیس پینتیس سال پہلے اپنے اس گاؤں میں جمعہ وعیدین بند کرانے میں راقم بھی پیش پیش تھا لیکن اب بدلتی ہوئی صورتحال میں ذاتی رائے یہ ہے کہ اب ہمارے اس گاؤں میں جمعہ وعیدین کی نمازوں کا انعقاد جائز بلکہ مصالح عمومی کے پیش نظر مستحسن ہے ۔ واللہ اعلم)

Answer

​جن مقامات پر جمعہ و عیدین کی نمازیں پہلے سے جاری ہوں، انہیں بند کروانا مناسب نہیں تھا بلکہ اس قسم کے اقدامات عموماً اشتعال اور فتنہ و فساد کا سبب بنتے ہیں، جس سے بچنا لازم ہے۔ جہاں تک نماز جمعہ و عیدین کے قیام کا تعلق ہے تو ایسا گاؤں جو شہری سہولیات سے آراستہ ہونے کے ساتھ سولہ سترہ گاؤں کا مرکزی گاؤں ہو اور وہاں جامع مسجد بھی ہے تو ایسے گاؤں میں نماز جمعہ و عیدین کی ادائیگی نہ صرف شرعاً جائز بلکہ واجب ہے۔

Venue
Wana
Date & Time
Apr 23, 2026 @ 01:32AM
Tags
No Tags Found