Category
Fatwa Number
Question
(1) ہمارے ہاں بلوچستان میں دہشتگردی یا سرکار کے ساتھ تعلقات کے الزام میں لوگ اٹھائے جاتے ہیں، پھر کئی سالوں تک وہ لوگ گم ہو جاتے ہیں ان کے مرنے یا زندہ ہونے کا قطعی طور پر پتہ نہیں چلتا۔ تو پوچھنا یہ ہے کہ ان کی عورتیں دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہیں یا نہیں؟
(2) اگر کئی سالوں کے انتظار کے بعد یا موت کے جھوٹی افواہ کے بعد اس عورت کا نکاح دوسرے مرد سے کیا گیا اور اگر بعد میں پہلا خاوند واپس آگیا تو اس صورت میں کیا حکم ہے؟
Answer
(1) اگر کسی عورت کا شوہر اس طرح لاپتہ ہو جائے کہ اس کے زندہ یا مردہ ہونے کا کوئی علم نہ ہو اور بیوی کے لیے نفقہ و گزر بسر کا انتظام کرنا ممکن نہ ہو، یا شوہر کے بغیر رہنے سے گناہ میں مبتلا ہونے کا قوی اندیشہ ہو، تو ایسی صورت میں وہ عدالت سے رجوع کرے۔ عورت شرعی گواہوں کے ذریعے اپنا نکاح اور شوہر کا لاپتہ ہونا ثابت کرے، جس کے بعد عدالت خود بھی مکمل تحقیق و تفتیش کرے گی۔ جب تلاش سے مایوسی ہو جائے تو عدالت عورت کو چار سال انتظار کا حکم دے گی اور اس مدت کا آغاز اسی وقت سے ہوگا, جب عدالت شوہر کی تلاش سے باضابطہ طور پر مایوس ہو چکی ہو۔ اگر اس عرصے میں بھی شوہر کا پتہ نہ چلے تو چار سال کی مدت ختم ہونے پر اسے حکماً مردہ تصور کیا جائے گا اور عورت عدتِ وفات گزارنے کے بعد دوسرا نکاح کر سکے گی۔ تاہم بہتر یہی ہے کہ چار سال گزرنے کے بعد عدالت سے مفقود الخبر شخص کی موت کا باقاعدہ حکم حاصل کر لیا جائے۔
(2) مذکورہ صورت میں پہلے خاوند کے واپس آنے کی صورت میں:
(۱) دوسرے شوہر سے اس خاتون کا نکاح خود بخود ختم ہوجائے گا، اور پہلے شوہر سے اس کا نکاح برقرار رہے گا۔
(۲) دوسرے شوہر کی عدّت (اگر حاملہ ہے تو وضع حمل ورنہ تین حیض) پوری کرنا لازم ہے۔
(۳) عدّت پوری کرنے سے پہلے شوہرِ اوّل کا اس سے صحبت کرنا جائز نہیں۔
(۴) یہ خاتون عدت پہلے شوہر کے ہاں گزارے گی۔
(۵) اگر دوسرے شوہر سے خلوت صحیحہ ہوچکی ہو تو پورا مہر جو بوقت نکاح مقرر کیا گیا تھا ادا کرنا واجب ہے۔
(۶)اولاد کا نسب دوسرے شوہر سے ثابت ہوگا۔
(مستفاد از الحیلۃ الناجزہ)
