Category
Fatwa Number
Question
اگر شوہر دوسری بیوی کو پہلی کے ماتحت کر دے، تمام فیصلے پہلی کی مرضی سے ہوں، اور دوسری بیوی کو صرف روٹی کپڑے تک محدود رکھ کر، وقت، توجہ اور مشاورت کے تمام حقوق صرف پہلی بیوی کو دے، تو ایسی صریح ناانصافی اور غیر مساوی سلوک کا شرعی و اخلاقی حکم کیا ہے؟
Answer
اللہ تعالی نے کسی شخص کو ایک سے زائد شادیوں کا اختیار اس شرط پر دیا ہے کہ وہ تمام بیویوں کے ساتھ عدل و انصاف کا معاملہ کرے گا۔ لہذا صورت مسئولہ میں اگر واقعی شوہر کا یہ رویہ ہے کہ وہ عدل و انصاف سے کام نہیں لے رہا تو ایسے شخص کو اللہ تعالی سے جوابدہی کا ڈر ہونا چاہیے۔ اسے چاہیے کہ فوری طور پر اپنے رویے کی اصلاح کرے اور اپنی دونوں بیویوں کے حقوق، عدل و انصاف کی بنیاد پر ادا کرے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”مَنْ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ فَمَالَ إِلَى إِحْدَاهُمَا، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَشِقُّهُ مَائِلٌ“.(1)
(جس کے پاس دو بیویاں ہوں اور اس کا میلان ایک کی جانب ہو تو وہ بروز قیامت اس حال میں آئے گا، کہ اس کا ایک دھڑا جھکا ہوا ہو گا۔)
اور یہ عدل و انصاف ان امور میں ہے جو اس کے اختیار میں ہیں، مثلاً ہم نشینی اور دلجوئی کے لیے رات گزارنا وغیرہ۔ رہا قلبی لگاؤ اور جنسی تعلق، تو یہ چیزیں انسانی بس میں نہیں، کیوں کہ محبت ایک قلبی کیفیت ہے اور جماع کا انحصار طبیعی نشاط پر ہے، جو کہ غیر اختیاری امور ہیں، تاہم بیوی کی رضامندی کے بغیر جنسی تعلق میں چار ماہ سے زیادہ تاخیر درست نہیں۔
(1) (سنن ابی داؤد، کتاب النکاح، باب القسم بین النساء، حدیث : 2133)
