Category
Fatwa Number
Question
میری عمر 48 سال ہے۔ میری ماہواری کا دورانیہ ہمیشہ سے سات دن کا رہا ہے، لیکن آخری بیٹی کی پیدائش کے بعد سے اب یہ دس دن تک طویل ہو چکا ہے۔ اس میں پہلے چار دن روانی رہتی ہے، جس کے بعد اگلے چند دن کبھی کبھار خون کے قطرے آتے ہیں اور آخری ایام میں صرف ٹشو سے چیک کرنے پر رنگت محسوس ہوتی ہے۔ دس دن بعد مکمل صفائی ہوتی ہے۔
اس صورتحال کی وجہ سے پچھلے دو تین سال سے میں ادویات کے استعمال سے روزے مکمل کرتی رہی ہوں۔ اس سال بھی میں نے متوقع تاریخ سے پانچ دن پہلے دوا شروع کی، لیکن دو دن بعد دھبے ظاہر ہونے پر میں نے دوا چھوڑ دی۔ پھر ڈاکٹر کے مشورے پر دوبارہ دوا شروع کی اور خوراک بھی دگنی کر دی، مگر اس کے باوجود قطرے آنے کا سلسلہ بند نہ ہوا۔ نتیجے کے طور پر میں نے دوا پھر چھوڑ دی اور پانچ دن بعد روانی شروع ہوئی۔
اب صورتحال یہ ہے کہ پچھلے تین دن سے دوبارہ وہی ہلکی رنگت یا نشانات ظاہر ہو رہے ہیں اور میرے 11 روزے چھوٹ چکے ہیں۔ اپنی سابقہ عادت کے مطابق مجھے لگتا ہے کہ ابھی مزید دو دن یہی صورت رہے گی۔ کیا اس حالت میں مجھے مزید روزے چھوڑنے چاہییں؟ رہنمائی فرمائیں۔
Answer
حیض کا خون آنا عورت کی فطرت کا حصہ ہے، اس کی بندش کے لیے ادویات کا استعمال قدرتی نظام میں مداخلت کے ساتھ ساتھ صحت کے لیے بھی مضر ہوسکتا ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے فطری دورانیے میں رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے۔ نیز یہ بھی جان لینا چاہیے کہ مقررہ عادت کے ایام پورے ہونے کے بعد جو خون آئے، وہ استحاضہ (کسی بیماری یا کمزوری کے سبب آنے والا خون) کہلاتا ہے، اور استحاضہ کی حالت میں روزے چھوڑنا جائز نہیں ہے۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں چوں کہ آپ کی عادت آخری بیٹی کی پیدائش کے بعد سے اب تک دس دن رہی ہے، اس لیے شرعی طور پر اب آپ کا حیض دس دن ہی شمار ہوگا۔ دس دن کے دورانیے میں جو بھی ہلکی رنگت اور نشانات نظر آئیں، وہ سب حیض ہے، البتہ اگر یہ سلسلہ دس دن سے تجاوز کر جائے (مثلاً گیارہویں دن بھی رنگت نظر آئے)، تو پھر آپ کی سابقہ عادت (جو کہ دس دن تھی) کے مطابق دس دن حیض کے ہوں گے اور اس سے اوپر استحاضہ شمار ہوگا۔ لہذا دس دن پورے ہونے کے بعد آپ کو مزید روزے نہیں چھوڑنے چاہییں، اگر لا علمی کی وجہ سے چھوڑ دیے، تو ان کی قضا لازم ہے کفارہ نہیں۔
