کسی کام کے نہ کرنے کی قسم کھانے کے بعد وہ کام کرنے کا حکم

Category
Oaths & Vows
Fatwa Number
0263
Question
میں نے تقریبا15،16 سال پہلے ایک مخصوص عمل کو نہ کرنے کا قصد کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ اگر دوبارہ میں اس عمل کو کروں تو مجھ پر میرے ماں کا دودھ حرام ہو۔ اور بعد میں وہ عمل مجھ سے ہوتا رہا۔ اس کا کفارہ کیا اور کتنا ہوگا۔
Answer

مدت رضاعت کے بعد کسی شخص کے لیے اپنی والدہ کا دودھ پینا حرام ہے۔ نیز کسی مخصوص کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم کے بعد اس کی خلاف ورزی کی صورت میں قسم کھانے والا حانث (قسم کو توڑنے والا) ہوگیا، اب اس پر قسم کا کفارہ لازم ہے۔ قسم کا کفارہ یہ ہے کہ وہ شخص (1) دس مساکین کو صبح و شام ( دو وقت) کا کھانا اس درمیانے درجے کی سطح کا کھلائے جو عام طور پر لوگ اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہیں، یعنی اس کھانے میں نہ تو تکلف اور اسراف ہو اور نہ ہی بخل و تنگی ہو، اس کی مقدار کا تعین صدقہ فطر کی مقدار کے مطابق کیا گیا ہے، یعنی پونے دو کلو گندم یا ساڑھے تین کلو جَو یا کھجور، یا کشمش (متعلقہ شخص اپنی مالی حیثیت کے مطابق فیصلہ کرے گا، وہ ان کی بازاری قیمت بھی دے سکتا ہے ، اسی طرح ایک مسکین کو دس دن دونوں اوقات کا کھانا کھلایا جاسکتا ہے یا قیمت دی جاسکتی ہے) یا (2) دس مساکین کو اپنی حیثیت کے مطابق اوسط درجہ کا سِلے یا ان سِلے کپڑوں کا ایک ایک جوڑا دے۔ اور اگر وہ ان چیزوں کی مالی استطاعت نہیں رکھتا، تو بطور کفارہ تین روزے رکھے جو مسلسل (بلا ناغہ) ہوں۔

Venue
Swat
Date & Time
Feb 26, 2026 @ 11:19AM
Tags
No Tags Found