مختلف اثاثوں پر زکوٰۃ کیسے ادا کریں؟

Category
Zakat & Charity
Fatwa Number
0245
Question

کیا فرماتے ہیں مفتیان شرع متین درج ذیل مسئلے کے بارے میں:
ایک شخص کے پاس درج ذیل اثاثہ جات موجود ہیں:
• سونا = 20,414.00 کی مالیت کا،
• کرایہ کی آمدنی = 64,300.00،
• گیس اسٹیشن کا سامان تجارت = 70,000.00،
• سیل فون اسٹور کا سامان تجارت = 8,500.00،
• نقد = 35,000.00،
• اسکول کی سرمایہ کاری = 150,000.00،
• زکوٰۃ کے قابل ریٹائرمنٹ کے حصص = 60,000.00،
• اسٹاک ایکسچینج کے حصص = 22,600.00،
نیز اس کے ذمے اسکول کے بزنس کے لیے حاصل کردہ قرض 550,000.00 ہے ایسی صورت میں اس کی ذمے زکوۃ کی شرعی صورت حال کیا ہے؟
واضح رہے کہ تمام رقوم ڈالرز میں ہیں۔​

Answer

جب کوئی شخص صاحب نصاب ہو یعنی اس کی ملکیت میں ساڑھے سات تولے (87 گرام 480 ملی گرام) سونایا اس کی مالیت کے برابر نقدی یا مال تجارت ہو یا اس کی ملکیت میں ساڑھے باون تولے خالص چاندی ہو، تو ایسا شخص صاحب نصاب کہلاتا ہے اور صاحب نصاب شخص پر ہر سال اپنی کل مالیت میں سے اڑھائی فیصد (%2.5) زکوۃ فرض ہوتی ہے۔ لیکن اگر صاحب نصاب شخص پر نصاب کے برابر یا اس سے زائد قرض ہو، تو وہ صاحب نصاب نہیں رہتا، اس لیے اس پر زکوۃ بھی لازم نہیں ہوتی۔ لہذا صورت مسئولہ میں ذکر کردہ اثاثہ جات کی مجموعی مالیت چار لاکھ تیس ہزار آٹھ سو چودہ (430,814) ڈالر ہے جب کہ مجموعی قرض، پانچ لاکھ پچاس ہزار (55,0000) ڈالر ہے، جو کل اثاثہ جات سے زائد ہے، اس صورت میں زکوۃ نہیں، بلکہ قرض کی ادائیگی لازم ہے۔ تاہم اگر قرض طویل مدتی ہے اور ایک سال میں صرف مخصوص اقساط ادا کرنی ہیں، تو پھر صرف ایک سال کی اقساط منہا کرنے (اصل مالیت سے نکالنے) کے بعد، اگر بقیہ رقم ساڑھے سات تولے سونے کی مالیت کو پہنچتی ہے، تو سال گزرنے کے بعد اس پر اڑھائی فیصد زکوۃ فرض ہوگی۔

Venue
Multan
Date & Time
Feb 23, 2026 @ 01:22PM
Tags
No Tags Found