Category
Fatwa Number
Question
میرا اس وقت ایک دوست کے ساتھ مشترکہ کاروبار ہے، جس میں میرا 48 لاکھ پاکستانی روپے کا سرمایہ لگا ہوا ہے۔ اس کے منافع میں ہم دونوں برابر کے حصہ دار ہیں۔ اس کاروبار کی آمدنی کی زکوٰۃ دونوں پر فرض ہے یا مجھ اکیلے پر؟۔ اس وقت میرے اوپر بینک کے جاری کردہ کریڈٹ کارڈز کا کافی قرضہ بھی ہے، جو کہ ڈالرز میں ہے۔ میرے ذاتی استعمال کی گاڑی بھی میری آمدنی کا ایک ذریعہ ہے۔ اس کے علاوہ بیرون ملک کاروبار بھی ہے، جس کے منافع میں میرا حصہ %35 ہے۔
Answer
مشترکہ کاروبار میں ہر شریک اپنے حصے کی زکوۃ خود ادا کرے گا، لہذا آپ کو چاہیے کہ کاروبار میں اپنے حصے کے مالِ تجارت کی موجودہ قیمت فروخت، بیرون ملک کے کاروبار اور ذاتی گاڑی سے حاصل ہونے والی آمدنی، اس کے علاوہ اگر سونا، چاندی اور نقد رقم بھی ہے تو ان سب کو یکجا کریں، پھر ان تمام اثاثوں کی مجموعی مالیت سے اپنے اوپر واجب الادا قرض کو منھا کریں، اب اگر باقی رقم ساڑھے سات تولے (87 گرام 480 ملی گرام) سونے کی قیمت کو پہنچتی ہے، تو سال مکمل ہونے کے بعد اڑھائی فیصد (%2.5) زکوۃ فرض ہوگی۔
