بیچی ہوئی چیز واپس لینے پر پہلی قیمت میں کٹوتی کرنا

Category
Sales and Dealings
Fatwa Number
0240
Question

​ہمارا موبائل فون کا کاروبار ہے۔ مارکیٹ میں ایک طریقہ چل رہا ہے کہ موبائل فون بیچتے وقت، گاہک کو کہہ دیا جاتا ہے کہ اگر آپ یہ موبائل کچھ عرصہ چلانے کے بعد واپس کریں گے، تو آپ سے کچھ رقم کٹوتی کرکے باقی رقم واپس کردی جائے گی۔ کیا اس طرح کاروبار کرنا شرعا جائز ہے؟

Answer

جب موبائل فروخت ہو جاتا ہے تو شرعاً بیع مکمل ہو جاتی ہے اور وہ چیز خریدار کی ملکیت میں منتقل ہو جاتی ہے۔ ایسی صورت میں اگر موبائل میں کوئی ایسا عیب ظاہر ہو جو سودے کے وقت موجود تھا، تو خریدار کو مکمل حق حاصل ہے کہ وہ کسی کٹوتی کے بغیر اپنی پوری قیمت واپس لے۔ تاہم اگر موبائل میں کوئی عیب نہ ہو اور خریدار محض پسند نہ آنے یا دل (پسند ) بدلنے کی بنا پر اسے واپس کرنا چاہے، تو شرعاً دکاندار پر اسے واپس لینا لازم نہیں۔
​اگر دکاندار خریدار کی پریشانی یا درخواست پر خوش دلی سے موبائل واپس لے رہا ہو، تو اسے اسی قیمت پر واپس لینا چاہیے جس پر فروخت کیا تھا، شریعت میں اس عمل کو ”اقالہ“ کہا جاتا ہے۔ اگرچہ عیب نہ ہونے کی صورت میں واپسی دکاندار کی ذمہ داری نہیں، لیکن باہمی تعاون اور حسنِ معاشرت کے پیش نظر خریدار کی پریشانی کا خیال رکھنا اور سودا منسوخ کر دینا اعلیٰ اخلاق میں سے ہے۔
​رسول اللہ ﷺ نے ایسے تاجر کی فضیلت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
”من ‌أقال ‌مسلما، أقاله الله عثرته يوم القيامة“ (1)
​(جو شخص کسی مسلمان کا اقالہ قبول کرے (یعنی اگر وہ خریدی ہوئی چیز واپس کرنا چاہے تو اس سے واپس لے لے) تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی لغزش معاف فرمائیں گے۔)
​لہذا اگر دوکاندار وہ چیز واپس لینے پر رضامند ہو جائے، تو اس کے لیے پہلی قیمت پر ہی سودا ختم کرنا ضروری ہے، پہلی قیمت میں کٹوتی کرنا شرعاً جائز نہیں، کیوں کہ یہ ظلم اور ناجائز نفع سمجھا جاتا ہے۔
اور اگر دوکاندار واپسی کی شرط پہلے سے لگا کر اس طرح بیچتا ہے کہ کٹوتی کے ساتھ واپس لوں گا تو یہ شرط فاسد (ناجائز شرط) ہے جس کی وجہ سے خرید و فروخت درست نہیں رہتی۔


(1) سنن ابن ماجہ، (بیروت، دار الرسالۃ العالمیۃ)، أبواب التجارات، باب الإقالة، 318/3 رقم: 2199۔

Venue
Shikarpur
Date & Time
Feb 21, 2026 @ 06:34PM
Tags
No Tags Found