”میں نے تمہیں چھوڑ دیا“ کے الفاظ سے طلاق کا حکم

Category
Nikah & Talaq
Fatwa Number
0233
Question

ہم میاں بیوی چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑ پڑتے ہیں اور زیادہ دن ناراض رہتے ہیں۔ پھر بعض اوقات ایک دوسرے کو چھوڑنے کے الفاظ بھی کہے ہیں؛ مثلاً ”میں نے تمہیں چھوڑ دیا“۔
کیا اس سے طلاق واقع ہوگی؟

Answer

صورت مسؤلہ میں اگر خاوند نے مذکورہ الفاظ ”میں نے تمہیں چھوڑ دیا“، طلاق کی نیت سے کہے، تو اس سے اس کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوگئی۔ بعد میں یہی الفاظ کہے تو وہ لغو ہوگئے کیوں کہ بیوی طلاق کا محل نہیں رہی۔ اس کے بعد دونوں کا بطور میاں بیوی رہنا جائز نہیں۔ عورت عدت گزارنے کے بعد کسی اور جگہ نکاح کر سکتی ہے۔ البتہ اگر دونوں دوبارہ ساتھ رہنا چاہیں تو عدت کے دوران یا اس کے بعد دو گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے ساتھ تجدید نکاح کریں۔ اس کے بعد خاوند کو صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔
اور اگر مذکورہ الفاظ شوہر نے طلاق کی نیت کے بغیر کہے تھے، تو اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، البتہ آئندہ اس طرح کے الفاظ استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

Venue
Riyadh, Saudi Arabia
Date & Time
Feb 18, 2026 @ 02:58AM
Tags
No Tags Found