طلاق کے بعد اکھٹے رہنے کے لیے میاں بیوی پر گھریلو دباؤ کا حکم

Category
Nikah & Talaq
Fatwa Number
0212
Question

میرے کزن کی شادی خاندانی مجبوریوں کے سبب اپنے خالہ کی بیٹی سے ہوئی۔ لڑکا اس رشتے سے راضی نہیں تھا۔ تقریبا 22 دن بعد فون پر طلاق کا معاملہ پیش آیا۔ لڑکی کا کہنا ہے کہ اس نے فون پر ایک طلاق سنی جب کہ لڑکا کہتا ہے کہ اس نے تین طلاقیں دی ہیں۔ گھر والے لڑکے پر شدید دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ یہ کہہ دے کہ اس نے تین طلاقیں نہیں دیں، اس وجہ سے لڑکا ذہنی دباؤ اور پریشانی میں ہے، کیوں کہ وہ کسی کو ناحق حرام میں نہیں رکھنا چاہتا۔ اس صورت میں شریعت کیا کہتی ہے؟

Answer

اگر شوہر فون پر تین طلاقوں کا اعتراف کر چکا ہے، تو شرعی طور پر اس کا یہ اقرار معتبر ہے اور بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں۔ اس صورتِ حال کے بعد دونوں کا بطور میاں بیوی ساتھ رہنا قطعاً حرام ہے۔ اب اگر شوہر اپنے سابقہ اقرار سے پھر جائے یا یہ کہے کہ اس نے طلاقیں نہیں دیں، تو اس کے محض مکر جانے سے طلاق کا حکم ختم نہیں ہوگا۔ لہٰذا گھر والوں کی طرف سے حقائق کے برعکس لڑکے پر رجوع یا انکار کے لیے دباؤ ڈالنا شرعاً ناجائز ہے۔

Venue
Lahore
Date & Time
Feb 05, 2026 @ 11:53PM
Tags
No Tags Found