والدہ، بیوہ، دو بھائیوں اور ایک بہن میں تقسیمِ ترکہ

Category
Testation & Inheritance
Fatwa Number
0183
Question

ایک شخص فوت ہوا۔ اس کے ورثا میں والدہ، بیوہ، دو بھائی اور ایک بہن ہے۔ ان کے درمیان وراثت کی تقسیم کس طرح ہوگی؟​

Answer

صورت مسئولہ میں مرحوم کی تجہیز و تکفین کے اخراجات، قرض کی ادائیگی اور اگر اس نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ترکہ کی ایک تہائی (1/3) مال کی حد تک، اسے پورا کرنے کے بعد باقی منقولہ و غیر منقولہ ملکیت کے از روئے شرع، 60 حصے ہوں گے۔ جن میں سے مرحوم کی والدہ کو 10 حصے، بیوہ کو 15 حصے، دو بھائیوں میں سے ہر ایک کو 14 حصے اور بہن کو 7 حصے ملیں گے۔
یعنی فیصد کے اعتبار سے والدہ کو %16.67، بیوہ کو %25، دو بھائیوں میں سے ہر ایک کو %23.33، اور بہن کو %11.67 ملیں گے۔

Venue
Lahore
Date & Time
Jan 24, 2026 @ 06:58AM
Tags
No Tags Found