Category
Fatwa Number
Question
میرا جنرل آئٹمز کا کاروبار ہے، جس میں کچھ لوگوں کی انویسٹمنٹ بھی ہے اور میرے اوپر قرض بھی ہے۔ بکرے اور بکریاں بھی ہیں، جن میں سے کچھ کو بیچنے کا ارادہ ہے۔ نیز ایک پروجیکٹ میں نوکری بھی ہے، جس کی آمدن کبھی کم کبھی زیادہ ہوتی ہے۔ میں زکوۃ کب نکالوں اور وہ کتنی مقدار پر فرض ہے؟
Answer
آپ اپنے کاروبار میں اپنے حصے کے سامانِ تجارت کی موجودہ قیمتِ فروخت اور بیچنے کی نیت سے پالی گئی بکریوں کی موجودہ مارکیٹ قیمت لگائیں، پھر اس میں نوکری سے ہونے والی آمدن کی وہ رقم شامل کریں، جو سال کے آخر میں آپ کے پاس بچت کی صورت میں موجود ہو۔ اس مجموعی رقم سے اپنا واجب الادا قرض منہا کردیں۔ قرض نکالنے کے بعد بچنے والی رقم ساڑھے سات تولے سونا، گرام کے اعتبار سے 87 گرام 480 ملی گرام (اس کو زکوٰۃ کا نصاب کہتے ہیں) کی موجودہ قیمت کے مساوی ہو، یا اس سے زیادہ ہو، تو اس پر سال گزرنے پر اڑھائی فیصد (2.5) زکوٰۃ فرض ہوگی۔
لہٰذا مذکورہ تفصیلات کی روشنی میں زکوۃ کی ادائیگی کے لیے کوئی ہجری تاریخ متعین کرلیں اور پھر ہر سال اسی تاریخ کو سونا، چاندی، نقدی، مال تجارت کا حساب کریں اور اس پر اڑھائی فیصد زکوٰۃ ادا کریں۔ واضح رہے کہ جس تاریخ سے زکوۃ کی ادائیگی کے سال کا آغاز ہوگا تو اس موقع پر نصابِ زکوۃ کی تکمیل ضروری ہے۔ درمیان سال میں اگر مجموعی رقم، نصابِ زکوۃ سے کم بھی ہو جاتی ہے، تو اس سے زکوۃ کی ادائیگی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
