Category
Ibadaat & Ikhbat e Ilahi
Fatwa Number
0172
Question
زید نے اپنی وفات سے کچھ وقت پہلے وصیت کی کہ میری زندگی میں جتنی نمازیں قضا ہوئی ہیں، اُن کا فدیہ میرے ذمے باقی ہے، لہٰذا میری طرف سے یہ فدیہ ادا کیا جائے۔ تو کیا یہ فدیہ مالِ وراثت سے ادا کیا جائے گا، یا ورثا اپنے طور پر ادا کریں گے؟ کیوں کہ ورثا میں کچھ افراد نابالغ ہیں، جن کی اجازت بھی شرعاً قابل اعتبار نہیں۔
Answer
متوفی کی وصیت کی صورت میں نمازوں کا فدیہ مالِ وراثت کے ایک تہائی حصے سے ادا کیا جائے گا۔ ورثا کی اجازت ضروری نہیں۔ اور ایک نماز کا فدیہ 1700 گرام گندم ہے۔
Venue
Quetta
Date & Time
Jan 14, 2026 @ 09:27AM
Source
Tags
No Tags Found
