Category
Fatwa Number
Question
ایک شخص کا نکاح ہوا، لیکن رخصتی سے پہلے ہی اس نے اپنی بیوی کو ان الفاظ کے ساتھ طلاق دی؛ ”تمہیں طلاق دیتا ہوں“۔ بیوی کا بیان ہے کہ میں نے خاوند سے پوچھا کہ ”کیا تم ہوش و حواس سے بات کر رہے ہو؟“ تو خاوند نے کہا کہ ”ہاں میں ہوش و حواس سے بات کر رہا ہوں“۔ بیوی اس وقت حیض کی حالت میں تھی۔
کچھ عرصہ بعد دوبارہ خاوند نے کہا کہ ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔“ اور اس وقت بیوی پاکی کی حالت میں تھی۔
تیسری دفعہ ملاقات کے دوران بات چیت کرتے ہوئے مسئلہ پیدا ہوا تو پھر خاوند نے کہا کہ ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔“ اس وقت بیوی پاکی اور روزے کی حالت میں تھی۔ بیوی کا بیان ہے کہ خاوند نے تیسری مرتبہ طلاق کے بعد کہا کہ ”یہ جو سارا کچھ کیا ہے یہ فقط ڈرانے کے لیے تھا، میری نیت قطعًا طلاق کی نہیں تھی۔“ ایسی صورت حال میں اس مسئلہ کے شرعی حکم کے بارے میں بتایا جائے۔
Answer
خاوند نے نکاح کے بعد رخصتی سے پہلے جب بیوی سے یوں کہا ”تمہیں طلاق دیتا ہوں“، تو اس سے بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوگئی، بشرطیکہ خلوتِ صحیحہ (کسی مانع کے بغیر تنہائی میں ملاقات) نہ ہوئی ہو۔ اس صورت میں باقی طلاقیں کالعدم شمار ہوں گی اور بیوی پر عدت گزارنا بھی ضروری نہیں۔ البتہ طلاق کے بعد، اگر مرد و عورت دوبارہ رہنا چاہیں، تو دو گواہوں کی موجودگی میں، از سر نو حقِ مہر مقرر کرنے کے ساتھ نکاح کرنا ضروری ہے۔ اور آئندہ زندگی میں اس عورت کے لیے، شوہر کو دو طلاقوں کا اختیار حاصل ہوگا۔
لیکن اگر رخصتی سے پہلے خلوتِ صحیحہ ہوئی تھی، تو اس صورت میں بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی۔ اب آئندہ کے لیے ان کا میاں بیوی کے طور پر رہنا حرام ہے۔ مذکورہ عورت عدت گزانے کے بعد کسی اور جگہ نکاح کر سکتی ہے۔
