Category
Fatwa Number
Question
مفتی صاحب! میری شادی کو 13 سال ہو چکے ہیں، لیکن شوہر کی مخصوص مردانہ طبی کمزوریوں کی وجہ سے مجھے آج تک ازدواجی حقوق کی ادائیگی میں کبھی تسکین اور اطمینان حاصل نہیں ہو سکا۔ حال آں کہ ہمارے تین بچے بھی ہیں۔ طویل عرصہ صبر کرنے کے باوجود اب میری برداشت جواب دے رہی ہے اور مجھے اپنی عفت اور پاکدامنی برقرار رکھنا مشکل محسوس ہو رہا ہے۔ ذہن میں انتہائی نامناسب خیالات آتے ہیں اور شدید ذہنی اذیت کی وجہ سے میں نے اب شوہر سے طلاق کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ وہ علاج کے لیے مزید مہلت مانگ رہے ہیں۔
براہِ کرم شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ:
(1) کیا اس صورت میں عورت کے لیے پاکدامنی کی حدود سے باہر نکل کر کسی غیر مرد سے ضرورت پوری کرنے کی کوئی گنجائش ہے؟
(2) مذکورہ حالات میں میرے لیے شرعی اور اخلاقی طور پر کیا راستہ بہتر ہے؟
Answer
(1) شوہر کو چاہیے کہ جلد از جلد کسی ماہر طبیب سے اپنا علاج کروائے۔ نیز کسی عارضی مسئلہ کی وجہ سے طلاق کا مطالبہ کرکے اپنے ہنستے بستے گھر کو اجاڑنا اور غیر مرد سے ناجائز تعلق قائم کرکے ابدی زندگی کو داؤ پر لگانا عقلمندی نہیں۔ غیر مرد سے تعلق قائم کرنا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی صریح نافرمانی اور دنیا و آخرت میں خسارے کا سبب ہے، لہذا اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
قرآن حکیم نے جگہ جگہ پر اس قبیح فعل کی مذمت بیان کی ہے۔ چناں چہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا(1)
(اور زنا کے قریب نہ جاؤ بے شک وہ بے حیائی اور بری راہ ہے)
نیز ایک جگہ شرک اور قتل انسانیت کے ساتھ زنا کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے بھی دوگنا عذاب بیان ہوا ہے:
وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللّٰهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًايُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا (2)
(اور وہ (لوگ) جو اللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور کسی شخص کو ناحق قتل نہیں کرتے، جس کا (قتل) اللہ نے حرام کردیا ہے اور زنا نہیں کرتے، اور جس شخص نے یہ کیا وہ گناہ میں جا پڑا، قیامت کے دن اسے دوگنا عذاب ہوگا، اس میں ذلیل ہوکر پڑا رہے گا۔)
(2) دین اسلام نے ایسی صورت حال میں صبر و استقامت اور کثرت سے روزوں کا اہتمام کرنے کی تعلیم دی ہے۔
(1) 17-بنی اسرائیل: 32۔
(2) 25-الفرقان: 68-69۔
