Category
Fatwa Number
Question
میرا سوال یہ ہے کہ اگر ہم کپڑوں کا کاروبار کریں تو گاہک سے جتنا نفع ہم نے ایک سوٹ سے حاصل کرنا ہے، وہ نفع رکھ کر اس کو ریٹ بتائیں یا اس ریٹ سے زیادہ بتائیں؟ کیوں کہ گاہک ریٹ کم کرنے کا کہتا ہے۔ اور اگر ہم غلط ریٹ بتائیں تو جھوٹ بولنے کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اس کا بہتر حل بتا دیں! کیوں کہ آج کل گاہک ایک ریٹ پر سوٹ بیچنے میں ذہنی طور پر مطمئن نہیں ہوتا۔
Answer
کسی بھی چیز کو فروخت کرتے وقت بھاؤ تاؤ کرنا، یعنی ایک قیمت بتانے کے بعد خریدار کے مطالبے پر یا کسی اور وجہ سے اس میں کمی یا زیادتی کرنا شرعاً جائز ہے، شرط یہ ہے کہ معاملہ فریقین کی رضامندی سے طے پائے۔ اس میں دھوکا اور ناانصافی نہ ہو۔ شریعتِ مطہرہ میں خرید و فروخت کی بنیاد باہمی رضامندی پر ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:”بیع بیچنے والے اور خریدنے والے کی باہمی رضا مندی سے منعقد ہوتی ہے“۔
(سنن ابن ماجہ، حدیث: 2185)
مناسب ہوگا کہ بیچنے والا چیز کی قیمت، خریدار کو اس طور پر بتا دے کہ خریداری کی صورت میں اس میں کمی بیشی ہو سکتی ہے۔ البتہ اگر خریدار اس شرط پر چیز خریدے کہ بیچنے والا اسے اصل قیمت خرید (رأس المال) بتائے یا یہ بتائے کہ یہ چیز اسے کتنے کی پڑی ہے اور وہ اس پر کتنا نفع رکھے گا اور بیچنے والا اس شرط کو قبول کر لے، تو پھر بیچنے والے پر اصل قیمتِ خرید یا صحیح لاگت بتانا لازم ہوگا، اور اگر بیچنے والے نے قیمتِ خرید یا لاگت غلط بتائی اور خریدار کو بعد میں معلوم ہوگیا، تو اسے شرعاً معاملہ فسخ کرنے (چیز واپس کرنے) کا حق حاصل ہوگا، اور بیچنے والے پر لازم ہوگا کہ وہ چیز واپس لے۔
