بلوغت کے بعد نکاح کی ناگزیریت

Question

Aoa! My question is "Is it mandatory to marry soon after being adult. I think I need to study Islam and psychology to better grow my children before marraige but my colleagues say this is not right because the Hadith says to marry after being adult. Dont be over smart." Please clarify my confusion as I consider myself ineligible to be a good father at this stage.

Answer

حالتِ اعتدال میں نکاح سنتِ مؤکدہ ہے۔
واضح رہے کہ حالتیں تین ہیں: اِفراط ، تفریط ، اعتدال
اِفراط: نکاح کے تمام حقوق پر قادر ہو اور اگر نکاح نہیں کرئے گا تو برائی میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہو۔ اس صورت میں نکاح فرض ہے۔
تفریط: نکاح کے حقوق کی ادائیگی پر قادر نہ ہو بلکہ نکاح ہونے کی صورت میں مزید ظلم و زیادتی کا خطرہ ہو، اس صورت میں نکاح حرام ہے۔ 
اِعتدال: انسان کو مہر ، نان و نفقہ اور حقوقِ زوجیت پر قدرت حاصل ہو، اور زنا، ظلم و زیادتی اور ترکِ فرائض کا اندیشہ نہ ہو تو اعتدال کی صورت ہے۔ اگر مذکورہ امور میں سے کسی ایک پر قدرت نہ ہو یا کسی ایک کا خوف و اندیشہ ہو تو حدِ اعتدال سے تجاوز ہوگا کما فی البحر الرائق۔
مذکورہ تفصیل کی روشنی میں آپ خود فیصلہ کیجئے کہ آپ کس درجے میں ہیں۔ اگر کفو (ہمسر) رشتہ میسر نہ ہو یا بیوی کا نفقہ ادا کرنے کی استطاعت نہ ہو تو نکاح میں تاخیر کی جاسکتی ہے۔ اس صورت میں اگر  گناہ میں واقع ہونے کا اندیشہ ہو تو حدیث شریف کی روشنی میں اس کاعلاج کثرت سے روزے رکھنا ہے۔
باقی رہی یہ بات کہ آپ اچھا باپ بننے کی اہلیت نہیں رکھتے تو یہ آپ کا وہم ہے جب ذمہ داری پڑے گی تو اہلیت بھی پیدا ہو جائے گی۔

Venue
Lahore
Date & Time
Nov 13, 2023 @ 08:49PM