The impact of economic inequality on public health


13 مئی 2026ء بروز بدھ راول پنڈی میڈیکل یونیورسٹی میں سیمینار بعنوان " صحت عامہ پر معاشی عدم مساوات کا اثر" کا انعقاد کیا گیا ،سیمینار کے مہمانِ خصوصی پروفیسر ڈاکٹر عمر فاروق (وائس چانسلر راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی) تھے جب کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی دعوت پر حضرت مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری (ناظمِ اعلیٰ رحیمیہ انسٹی ٹیوٹ آف قرآنک سائینسز ) نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت فرمائی،سیمینار میں نظامت کی ذمہ داری ڈاکٹر ماجد صاحب نے سرانجام دی اور تلاوت کلام الہیٰ کی سعادت سید عادل بابر نے حاصل کی۔

حضرت اقدس مدظلہ العالی نےاپنے پرمغزخطاب میں صحت کے حوالے سے بنیادی اساسی اصول واضح کیے،آپ نے فرمایا کہ آج کا انسان اپنی صحت کو برباد کرنے کے نئے نئے طریقے ڈھوندتا نظر آتا ہے،دراصل ہر انسان کے پاس اتنا وقت ہونا چاہیے کہ معاشی سرگرمی کے بعد اپنا وقت سوسائٹی اور سماج کیلئے وقف کرے اوراللہ کے ساتھ تعلق قائم کرے۔

دینی تعلیمات کے تناظر میں انسان کی جان کی حفاظت لازمی اور ضروری ہے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وصال سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے یہ حلف لیاکہ تم نے غیر مسلم کی بھی حفاظت کرنی ہے اور یہ تمہارا فرض ہے،حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بھوک اور فقر انسان کو کفر تک پہنچا دیتا ہے،مثالی سوسائٹی وہ ہے جس میں امن قائم ہو،حج کے موقع پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یاد رکھو تمہارا خون تمہاری عزت اور تمہارا مال اسی طرح محترم ہے، جیسے مکہ مکرمہ محترم ہے۔

اسی طرح تمام خلفائے راشدین نے اپنے آنے والے نئے خلیفہ سے یہ حلف لیا کہ انسانی جان و مال کی حفاظت ہمارا فرض ہے چاہے وہ مسلم ہو یا غیر مسلم۔

آپ دیکھئے کہ تمام آزادانہ اور عادلانہ معاشروں میں صحت کی سہولیات مفت دستیاب تھیں، تمام انبیاء کی جدوجہد یہ ہوتی ہے کہ تمام انسانوں کو قومی آزادی دلوائیں،موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ فرعون کے پاس جاؤ اور نرمی سے بات کرنا اور کہنا کہ بنی اسرائیل کو ازادی دے کر ہمارے ساتھ روانہ کردو۔

غلام معاشرے نہ صحت دے سکتے ہیں نہ اپنے وسائل کو اپنے لیے استعمال کر سکتے ہیں جو ان کا آقا کہے گا انہوں نے ویسا ہی کرنا ہے،غلام معاشرے کی گروتھ نہیں ہو سکتی،پہلی چیز آزادی ہے،اسی لیے حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مدینہ منورہ میں آزاد قوم کی بنیاد رکھی اور 25غیر مسلم قبیلوں سے معاہدات کیے کہ تم مسلم حکومت کے وفادار رہو گے۔

انسانوں کے درمیان جو معاہدہ ہوتا ہے وہ عدل کی بنیاد پر ہوتا ہے،انسانی سماج کے معاہدات کو دیکھیں تو میاں بیوی کے مابین سماجی معاہدہ قائم ہوتا ہے،اسی طرح اقوام عالم میں قومی اور بین الاقوامی معاہدات ہوتے ہیں ،فریقین کے درمیان معاہدہ عدل و انصاف کی بنیاد پر ہوتا ہے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا ظالم کے ساتھ ذرا بھی ملاپ نہیں ہونا چاہیے۔

جو نظام قومی اور بین الاقوامی حوالے سے تشکیل پائے وہ تمام ریاستوں کے لیے برابر ہونا چاہیے، تمام امور کی ادائیگی عدل پر ہو ،ایسا معاشرہ زوال پذیر کہلاتا ہے جس میں ہر انسان خوف میں مبتلا رہے، خوفزدہ انسان نہ ذہنی صحت رکھ سکتا ہے نہ جسمانی صحت برقراررکھ سکتا ہے۔

مثالی معاشرہ وہ ہے جس میں ہر طرف سے وافر مقدار میں رزق ا کی فراوانی ہو،اس کے برعکس جس سوسائٹی میں بھوک ،غربت و افلاس موجود ہو تو ایسی سوسائٹی زوال یافتہ ہے۔

چار بنیادی اصول انسانی سوسائٹی میں واضح کرتے ہیں کہ یہ سوسائٹی کہاں کھڑی ہے۔

اگرکوئی سوسائٹی غلام ہوتی ہے، وہاں پر امن نہیں ،ہوتا عدل نہیں ہوتا اور معاشی خوشحالی نہیں ہوتی۔

مسلمان ہونے کی نشانی کیا ہے؟

1:اس کے دل میں کل انسانیت کے لیے عدل و انصاف ہونا چاہیے۔

2: انسانیت کے لیے اپنی جان بھی قربان کرنی پڑے تو پیچھے نہ ہٹے۔

3:کم وسائل بھی ہوں تو اس کو سوسائٹی کے لیے استعمال کرے۔

آج ہم نے سمجھنا ہے کہ ہماری سوسائٹی بحیثیت مجموعی کہاں کھڑی ہے ،ہمارے تعلیمی اداروں میں قرآن کے علوم پر گفتگو ہونی چاہیے، ہم باقی ملکوں سے کافی پیچھے ہیں،ہمیں قران کی تعلیمات کو سوسائٹی کے لیے استعمال کرنا چاہیے تاکہ ذہنی اور جسمانی نظام کو درست بنایا جا سکے۔

اس کے بعد مہمان خصوصی پروفیسر ڈاکٹر عمر فاروق صاحب نے کلمات تشکر ادا کرتے ہوئے مختصر گفتگو فرمائی۔

اسلام ایک کوڈ آف لائف ہے ،قران کو ایک مکمل ماڈل کے طور پر لینا چاہیے، اگر عدل کی بات کریں تو خلفائے راشدین نے جو عدل قائم کیا اس سے بہتر کیا ہو سکتا ہے،دنیا ایک گلوبل ولج ہو گئی ہے جب تک ہم مسلمان مل کر اس طرح کا ماڈل نہیں لائیں گے تو انسانی سوسائٹی کی ترقی مشکل ہے۔

پروگرام کی تکمیل حضرت اقدس کیے دعائیہ کلمات سےہوئی،بعد ازاں یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے چائے کی نشست پراساتذہ و انتظامیہ احباب کی حضرت اقدس سے استفادہ نشست ہوئی ،احباب نے مختلف سوالات کیے اور حضرت نے ان کے مدلل اور تسلی بخش جوابات صادر فرمائے، آخر میں حضرت اقدس نے وائس چانسلر صاحب کو کتاب ہدیہ فرمائی اور نشست تکمیل پذیر ہوئی۔

رپورٹنگ: احتشام شفیق