دین اسلام میں بنیادی انسانی حقوق کا نظام اور عصر حاضر

ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ (ہزارہ ڈویژن) کے زیر اہتمام مورخہ 12مئی 2024ء بروز اتوار ایک پُر وقار سیمینار " دین اسلام میں بنیادی انسانی حقوق کا نظام اور عصر حاضر" کے عنوان سے دی گارنش پبلک سکول مانسہرہ میں منعقد ہوا۔ سیمینار کے مہمان خصوصی مولانا مفتی عبد المتین نعمانی (صدر ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ) اور مہمان اعزازی انجنیئر ساجد علی  (ریجنل کوآرڈینیٹرادارہ رحیمیہ) تھے۔
سیمینار میں طلباء،علماء، وکلا اور پروفیسرز حضرات کے ساتھ ساتھ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
ڈاکٹر عاشق حسین ( ڈویژنل کوآرڈینیٹرادارہ رحیمیہ)کی صدارت میں سیمینار جناب آغازمعاذ الٰہی نے تلاوت قرآن حکیم سے کیا۔ جناب جنید احمد نے حضرت محمدﷺ کےحضور ہدیہ نعت پیش کیا جب کہ نظامت کے فرائض ملک نوید اعوان نے سر انجام دیے۔
مہمان اعزازی انجنیئر ساجد علی نے ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ کا تعارف بیان کرتے ہوئے فرمایا  "ہم نے وطن عزیز اسلام کے نام پر حاصل کیا،مگر76 سالوں سے ہم اس نو آبادیاتی دور کے قائم کردہ برطانوی  نظام سے  آزادی نہیں حاصل کر سکے۔ دورحاضر میں ہمارے پاس من حیث القوم اس ظالمانہ  نظام کے مقابلے کی کوئی فکر موجود نہیں جبکہ دین اسلام انسان کے دنیوی اور اُخروی مسائل کا  ایک فرد سے لے کر بین الاقوامی سطح تک اور   انسانی زندگی کے تمام شعبوں کے مسائل کا مکمل حل پیش کرتا ہے بدقسمتی سے دین اسلام کا اس پہلو سے مطالعہ نہیں کیا جاتا۔یہی وہ پس منظر ہے جو  ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ٹرسٹ لاہور  کے قیام کا سبب بنا جس کا مقصد قوم کے نوجوانوں کو دین اسلام کا بطور سسٹم مطالعہ کرواکر، ان کی علمی و اخلاقی تربیت کرکے ان میں رہنمائی کی صلاحیت پیدا کنا ہے۔ آپ کا مزید کہنا تھا کہ  راہنما قیادت کی یہ پہلی ذمہ داری ہوتی ہے ہے کہ اس کے پاس سوسائٹی کا درست تجزیہ  اور اس کے حل کا ایک مربوط نظام فکر ہو۔
ادارہ رحیمیہ کا دوسرا مقصد نوجوان کے اندر نظم و ضبط پیدا کرنا ہے  اس کے اندر یہ صلاحیت پیدا کرنا  کہ وہ ان اصولوں پر اجتماعیت پیدا کر سکے اورعلمی کاوش کے ساتھ عملی استعداد پیدا کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ تیسری بنیادی چیزیہ ہے کہ یہ کام کسی مالی مفاد یا لالچ لئے نہیں بلکہ خالص اللہ کی رضا کے حصول کے لئے ہو  ،  یہ تین بنیادی مقاصد ہیں جس کے لئے حضرت اقدس شاہ سعید احمد رائے پوری رحمتہ اللہ علیہ جو  حضرت شاہ عبدالقادر رائے   پوری رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت شاہ عبدالعزیز رائے پوری رحمت اللہ علیہ کےخلیفہ تھے،  انہوں نے  2001ء میں وطن عزیز میں اس ادارے کی بنیاد رکھی۔ تاکہ ہمارا نوجوان دین کے نظام کو سمجھے اور اُس کے مطابق سماجی تعمیر وتشکیل کی عملی جدوجہد کرے۔"
    سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے  حضرت مولانا مفتی عبد المتین نعمانی مدظلہ العالی نے فرمایا  " یہ سیمینار نوجوانوں میں  شعور منتقل کرنے کے لیے منعقد کیا جا رہا ہے۔ قرآن حکیم انٹرنیشنل سطح کی سوسائٹی کی تشکیل کی بات کرتا ہے اوریہ  قوموں کے عروج و زوال کے اصول کا تعارف کراتا ہے انسان کے اخلاق کو درست کرنے کی تعلیم دینے کے ساتھ  انسانیت کا عبادات سے تعلق جوڑتا ہے اور سب سے بڑھ کر  اللہ کی مخلوق کی خدمت کا صحیح پروگرام دیتا ہے مخلوق کی خدمت کا وعظ کرنا آسان ہوتا ہے لیکن مخلوق کی خدمت کے لیے سسٹم اورادارے تشکیل دینا اس کے اصول قوائد ضابطے بنانا اس کو سوسائٹی میں غالب کرنا پریکٹیکل چیز ہے۔اس کے حصول کے لیئے نبی کریم ﷺ نے قرآن حکیم سے رہنمائی لیتے ہوئے  جو جماعت تیار کی اس کے چار بنیادی اصول واُمور بیان کیے  ؛ تعلیم،جماعت سازی، تزکیہ اور عملی نظام کے قیام کی حکمت عملی۔"
حضرت مولانا مفتی عبد المتین نعمانی مدظلہ العالی نے  مزیدفرمایا  " آج ظالمانہ طاغوتی  نظام غالب ہے جو فکری،سیاسی ،معاشی اور عدالتی غرض ہر سطح پہ انسانوں کے حقوق غصب کر رہا ہے فرد سے لے کر بین الاقوامیت تک یہ دائرہ پھیلا ہوا ہے۔اس کے مقابلے میں امام شاہ ولی اللہ رحمتہ اللہ علیہ اخلاق کو لا کر انسانیت کو اصل قرار دے کر اس کے لیے عبادات کا راستہ بھی کھولتے ہیں اقتراب الاللہ کو بھی بیان کرتے ہیں اور روحانیت کی ترقی کی بات بھی کرتے ہیں آج ہم کیوں مارکس کو پڑھ رہے ہیں ہم کیوں آج ایڈم سمتھ کو پڑھ رہے ہیں آج ہم کیوں  فیور باخ کو پڑھتے ہیں ہم آج کیوں ہیگل کو اور روسو   کوپڑھتے ہیں یہ تو جو یورپ کے ماہر معیشت سمجھے جاتے ہیں ان کے دائرے بڑے محدود ہیں آپ امام شاہ ولی اللہ دہلوی  کو پڑھو سیاست بھی صحیح آئے گی دین کی معیشت بھی صحیح آئے گی سماجیات کا نظام بھی آئے گا آزادی کا تحفظ بھی ہوگا قوموں کو روزگار بھی ملے گا اور دنیا بھی اچھی اور آخرت بھی اچھی ہوگی۔
اس کے بعد حضرت مولانا مفتی عبد المتین نعمانی مدظلہ العالی کے دُعائیہ کلمات سے سیمینار کی تکمیل ہوئی۔
رپورٹ 
شہاب الدین بنگش