زنگ آلود دِلوں کی صفائی اور ترقی میں ذکرُ اللہ کی اہمیت

Mufti Abdul Khaliq Azad Raipuri
Mufti Abdul Khaliq Azad Raipuri
Sep 16, 2023 - Khutbat e Juma
زنگ آلود دِلوں کی صفائی اور ترقی میں ذکرُ اللہ کی اہمیت

4؍ اگست 2023ء کو حضرت اقدس مولانا مفتی شاہ عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے جامعہ تعلیم القرآن، ریلوے مسجد، ہارون آباد، ضلع بہاولنگر میں خطبہ جمعتہ المبارک ارشاد فرماتے ہوئے فرمایا:

’’دنیا کے قیام کا بڑا بنیادی سبب حضرت انسان ہے اور انسان کا اس دنیا میں قائم رہنے کا ذریعہ اور سبب کتابِ مقدس قرآن حکیم کی وہ تعلیمات ہیں، جو اللہ سے ہمارا تعلق قائم کرتی ہیں۔ وہ ہمیں اس کائنات کے مرکز اور محور خانۂ کعبہ سے جوڑتی ہیں۔ وہ اس پوری دنیا کا ایسا مرکز ہے، جس کے ذریعے اللہ تبارک و تعالیٰ کے انوارات اور فیوضات و برکات پورے کرۂ ارض کے انسانوں کے دل و دماغ پر منتقل ہو رہے ہیں۔ اللہ پاک نے خانۂ کعبہ کو ’’انسانیت کے لیے بنایا گیا پہلا گھر‘‘ فرمایا ہے۔ (-3 آلِ عمران: 96) انسان دنیا میں جہاں بھی پھیل جائے، جب بھی اپنی اصل فطرت کی طرف متوجہ ہوگا تو اُس کا دل خانۂ کعبہ کی طرف کھنچے گا۔ اس سے پہلے انسان کا اصلی گھر جنت تھا۔ خانۂ کعبہ انسان کو اُس جنت کے اصل گھر کی یاد دلانے کے لیے واسطہ ہے۔

اسی طرح مدینہ منورہ بھی انسانوں کے دلوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ اس لیے کہ یہاں جبرئیل امین علیہ السلام جو وحی لے کر آئے اور رسول اللہ ﷺ کے قلبِ اطہر پر اُسے نازل کیا، اُس کا ایک خاص رشتہ اور ایک تعلق ہے۔ اُس تعلق کی وجہ سے مدینہ کے اندر بھی ایک خاص کشش پائی جاتی ہے۔ کتابِ مقدس قرآن حکیم دنیا میں اس لیے نازل ہوئی ہے کہ انسانی دلوں کو مشرکینِ مکہ کے شرک اور کفر و ظلم کے نظام کی وجہ سے جو زنگ چڑھ چکا تھا، اُسے صاف کیا جائے۔ ایسے انسانوں کی اصل انسانیت بحال کی جائے، تاکہ اپنے مرکز کی طرف اُن کا کھنچاؤ اور جذب صحیح ہوجائے۔ انسانی دل زنگ آلود ہوچکے ہیں، کھنچ نہیں رہے۔ مقناطیس تو اپنی طاقت سے انسانی دلوں کو کھینچتا ہے، لیکن لوہے میں لوہے کی بات نہ رہے، زنگ آلود ہو تو وہ کیسے کھنچے گا؟ اسی طرح خانۂ کعبہ کے انوارات تو انسانیت کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں، لیکن انسانی دل، جن پر گناہوں، ظلم و کفر، شرک، انسانیت دشمنی، بداَخلاقی، انسانوں کو نقصان پہنچانے، حسد، کینہ اور بغض عداوت کا زنگ چڑھ جاتا ہے، ان کو قرآن حکیم کی تعلیمات صاف و شفاف کردیتی ہیں۔

ہر چیز کا ایک ریگ مال ہوتا ہے، جو اُس کی صفائی، زنگ آلودگی کو ختم کرتا ہے۔ انسانی دلوں کا ریگ مال ذکرُ اللّٰہ (اللہ کا ذکر) ہے۔ قرآن حکیم بھی ذکر اللہ ہے۔ اللہ پاک فرماتے ہیں کہ ہم نے آپؐ پر ایک ذکر نازل کیا ہے، جو دلوں کو صیقل کرتا ہے، صفائی کرتا ہے۔ یہ ذکر اور وحی بڑے واضح دلائل کے ساتھ، بہت دو ٹوک تحریر، کتاب اور معاہدے کی صورت میں نازل ہوا ہے۔ رسول اللہؐ کے قلبِ اطہر پر نقش ہوا ہے۔ پھر صحابہؓ کے قلوب پر نقش ہوا ہے اور آج تک سینوں سے سینوں میں نقش ہوتا چلا آرہا ہے‘‘۔

خانۂ کعبہ کی مرکزیت اور انسانیت کے لیے اس کے انوارات

حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:

’’پچھلے دنوں دنیا کے کچھ محققین نے تحقیق کی ہے کہ مسلمانوں کا انسانیت اور کرۂ ارض پر بڑا اِحسان ہے۔ مسلمان نہ ہوتے تو یہ زمین، یہ انسانیت تباہ و برباد ہوجاتی۔ کیوں کہ مسلمان جب خانۂ کعبہ کے گرد طواف کرتا ہے، تو حجرِ اسود اور کعبہ سے ایسی نورانی اور مقناطیسی شعاعیں پھوٹتی ہیں، جو پورے کرۂ ارض کا احاطہ کرلیتی ہیں۔ اگر طواف ایک لمحے کے لیے بھی رُک جائے تو یہ شعاعیں نکلنی بند ہوجائیں۔

انسانی قلب کا خانۂ کعبہ کی عمارت اور حجرِ اسود کے ساتھ ایک ایسا رشتہ ہے کہ انسان اس کا مسلسل طواف کرتا رہتا ہے، جس لمحے طواف رُکتا ہے تو نماز پڑھتا ہے اور اپنے دل کو خانۂ کعبہ کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اُس کے نتیجے میں خانۂ کعبہ سے تہہ بہ تہہ شعاعیں اور مقناطیسی لہریں نکلتی ہیں، جس سے پوری کائنات ریچارج ہوجاتی ہے۔ اُس میں نئے سِرے سے توانائی پیدا ہوجاتی ہے۔ اگر یہ چارجنگ رُک جائے تو کرۂ ارض بھی فارغ ہوجائے۔ انسان بھی انسان نہ رہیں، کچھ اَور بن جائیں اور قیامت آجائے۔

انسانی دل، خانۂ کعبہ اور حجرِ اسود کا آپس میں ایکشن ری ایکشن ہوتا ہے، یعنی انسان ان کی طرف توجہ کرے گا تو وہاں سے نورانی لہریں آئیں گی، اگر توجہ ہی نہ کرے تو وہ نہیں آئیں گی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ نے آسمان سے زمین تک ایک نور کی رسّی پھینک رکھی ہے، جو آدمی اس کو مضبوطی سے پکڑ لے گا، وہ کامیاب ہوگا، وہ صحیح انسان بنے گا۔ اور جو نہیں پکڑے گا، وہ انسان نہیں ہے، وہ اس کرۂ ارض کا فضلہ ہے۔ یہ نور کی رسّی اسی خانۂ کعبہ میں ہے۔ اس لیے ایک مسلمان سے کہا گیا کہ اگر وہ خانۂ کعبہ کے قریب نہیں ہے، طواف نہیں کرسکتا تو اپنے اپنے علاقے میں کم از کم پانچ وقت خانۂ کعبہ کی طرف رُخ کرکے نماز ادا کرے، اس میں خانۂ کعبہ کی شعاعیں پڑیں اور اُس کو زندگی عطا کریں اور اُس کو انسان بنائیں۔ اس لیے نمازی انسان‘ حقیقی انسان ہوتا ہے۔ جو نماز نہیں پڑھتا تو ظاہر ہے وہ انسانیت سے دور چلا گیا۔

اس لیے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کے بارے میں پوچھیں گے کہ نماز پڑھی تھی؟ یعنی اُس مرکز سے تعلق قائم کیا تھا، جہاں سے تمھاری انسانیت برقرار ہونی تھی؟ پھر اس نماز کے ساتھ ساتھ یہ بھی سوال ہوگا کہ کیا نماز پڑھنے کے نتیجے میں تمھارے دلوں پر یتیم، مسکین اور غریب کے مسئلے حل کرنے کے جو اثرات مرتب ہونے چاہئیں تھے، وہ بھی پیدا ہوئے تھے کہ نہیں؟ نماز تو پڑھی، لیکن عدل و انصاف کا انکار کیا، مسکینوں اور یتیموں کے حقوق ادا نہ کیے تو وہ نماز کس کام کی؟ قرآن حکیم میں جہاں بھی نماز کا ذکر آیا ہے، ساتھ ہی زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نماز اُس وقت تک مکمل نہیں ہوگی، جب تک کہ دوسرے انسانوں پر خرچ کرنے کے لیے انسان زکوٰۃ اور صدقات نہیں دیتا۔ دونوں لازم و ملزوم ہیں‘‘۔

غلبۂ دین اور اس کی حفاظت کا جماعتی نظام

حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:

’’حضرت الامام شاہ ولی اللہ دہلوی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے قرآن حکیم کی حفاظت کی ذمہ داری سے مراد یہ ہے کہ جیسے جبریل علیہ السلام نے بہت ہی محفوظ طریقے سے حضرت محمد مصطفی ﷺ کے قلبِ اطہر پر اسے نازل کیا تھا، ایسے ہی بڑی حفاظت کے ساتھ آپؐ نے اپنے سینے سے حضرات ابوبکرؓ، عمرؓ،عثمانؓ اور علی المرتضیٰؓ کے سینوں ور دیگر صحابہ کرامؓ کے دلوں میں پوری طرح مِن و عَن منتقل کر دیا۔

شاہ ولی اللہ صاحبؒ فرماتے ہیں کہ دین کی حفاظت کا کام ہر نبی کے نائبین اور خلفا کرتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: ہر نبی کے ’’حواریّین‘‘ (مخلص نائبین) ہوتے ہیں، میرے بھی حواری ہیں، اس سلسلے میں آپؐ نے چند صحابہ کرامؓ کا نام بھی لیا۔ (ترمذی: 3745) یہ لوگ دین کی حفاظت کے لیے پورے خلوص کے ساتھ اپنے نبی کے مشن کو ہر حال میں برقرار رکھتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کے سینے رسول اللہ ﷺ کی وجہ سے صاف شفاف ہوئے اور انھوں نے آگے چل کر وہی کام کیا جو آپؐ نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں کیا۔

اس لیے آپؐ نے فرمایا کہ: ’’خبردار! میرے صحابہ کے بارے میں زبان درازی مت کرنا، جو اِن سے بغض رکھے گا وہ مجھ سے بغض رکھے گا، جو اِن سے محبت رکھے گا وہ مجھ سے محبت رکھے گا‘‘۔ (ترمذی: 3862) صحابہ کرامؓ دین کے غلبے کے لیے کام کرنے والے حواری ہیں۔ صحابہؓ سے بغض ہو اور کسی ایک صحابی کو من چاہی بنیادوں پر مان لیا جائے اور باقی صحابہ کا انکار کر دیا جائے تو یہ در اصل رسول اللہ ﷺ کا انکار ہے۔

شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ نہ صرف صحابہ کرامؓ، بلکہ ان کے بعد تابعینؒ نے بھی قرآن حکیم کے نور اور نبی ﷺ کے مشن کو سینوں سے سینوں میں منتقل کیا ہے۔ چناں چہ ترجمان القرآن حضرت ابن عباسؓ کے شاگرد عطا بن ابی رباحؒ اور طاؤسؒ تھے۔ اسی طرح حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے صحبت یافتہ اسود بن یزیدؒ، علقمہ بن قیسؒ، ابراہیم نخعیؒ، امام اعظم امام ابو حنیفہؒ، اسی طرح حضرت عائشہؓ اور حضرت ابن عمرؓ کے تربیت یافتہ سعید بن مسیبؒ، امام مالکؒ، امام شافعیؒ، امام احمدؒ، امام بخاریؒ وغیرہم تک علومِ قرآنی منتقل ہوئے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت تک ہمیشہ ایک جماعت حق پر برقرار رہے گی (مسلم: 4950) ، جو حفاظتِ قرآنی کا کام کرے گی۔ قیامت تک ایسے انسان ہر دور میں پیدا ہوتے رہیں گے جو قرآن کی حفاظت کریں گے، اس کو سمجھیں سمجھائیں گے، اس کا عملی نظام قائم کریں گے۔ یہی وہ سلسلہ ہے جو حجۃ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتویؒ تک منتقل ہوا۔ آپؒ نے دار العلوم دیوبند قائم کیا۔ اسی کی اساس پر مدارس و مکاتب کا یہ سلسلہ قائم ہوا، دروسِ قرآن کے سلسلے شروع ہوئے۔ حضرت شاہ عبد الرحیم رائے پوریؒ نے مکاتبِ قرآن کے طریقے اور اس کے منہج طے کیے۔ اسی کی اساس پر دورہ ہائے تفسیر کے حلقے قائم ہوئے، جس کا بنیادی مقصد اس نورِ الٰہی کتابِ مقدس کی حفاظت تھا۔ آج بھی اگر یہ مقصد پیش نظر ہے تو انبیا کی وراثت ہے اور اگر یہ نہیں ہے تو محض رسم اور مفادات اٹھانا ہے‘‘۔

دین کی حفاظت مسلمانوں کے ذمے ایک فریضہ ہے

حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:

’’دین کی ذمہ داری کوئی پیشہ یا کاروبار نہیںہے۔ دین منتقل کرنا ایک فریضہ ہے۔ ہر طالبِ علم سمجھے اور قرآن حکیم کو اسی طرح مِن و عَن سیکھے کہ جیسے اُس کی تعلیمات رسول اللہ ﷺ، صحابہؓ اور تابعینؒ سے منتقل ہوتی آرہی ہیں، اُسی طرح سمجھ گیا اور اُسی کے مطابق آگے دعوت دینے، منتقل کرنے کا کردار ادا کر رہا ہے۔ تب تو وہ سچا طالبِ علم ہے۔ اور اگر ایک کان سے سنا اور دوسرے کان سے نکال دیا، تو یہ طالبِ علمی نہیں ہے۔

صلاحیت پیدا کرو، علم کو سمجھو، کسی علم میں دین و دنیا کی تقسیم نہیں ہوتی۔ ایک ڈاکٹر بھی انسانیت کی خدمت کی نیت سے کام کرتا ہے تو یہ بھی ایک انسانی خدمت سرانجام دیتا ہے، دینی کام ہے۔ ایک پروفیسر بھی، ایک انجینئر بھی، ایک کمپیوٹر کا ماہر بھی، ہر فرد جو اللہ کی رضا اور انسانیت کی خدمت کے لیے کام کرتا ہے، تو گویا کہ وہ فریضہ ادا کر رہا ہے۔

حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اُس بندے کو پسند کرتا ہے کہ جو اپنے شعبے میں مہارت حاصل کرے۔ غیر ماہر عمل کرنے والے کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔ دین کا علم بھی اچھی طرح پوری مہارت سے حاصل کریں۔ اُس کی مہارت آپ کے عمل، کردار، آپ کے اجتماع اور نظام سے واضح ہو۔ ورنہ تو بس زبان سے قرآن پڑھ لیں اور اُس پر عمل نہ کریں، محض زبان کے حافظ قرآن ہوں، تو وہ نتیجہ کیا پیدا کرے گا؟

حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’میں نے خواب دیکھا کہ دو آدمی میرے پاس آئے۔ انھوں نے میرے ہاتھ تھام لیے اور وہ ۔۔۔ مجھے ایسے شخص کے پاس لائے جو سر کے بل لیٹا ہوا تھا اور دوسرا شخص ایک بڑا سا پتھر لیے اس کے سر پر کھڑا تھا۔ اس پتھر سے وہ لیٹے ہوئے شخص کے سر کو کچل دیتا تھا۔ جب وہ اس کے سر پر پتھر مارتا تو سر پر لگ کر وہ پتھر دور چلا جاتا اور وہ اسے جا کر اٹھا لاتا۔ ابھی پتھر لے کر واپس بھی نہیں آتا تھا کہ سر دوبارہ درست ہو جاتا۔ بالکل ویسا ہی جیسا پہلے تھا۔ واپس آ کر وہ پھر اسے مارتا۔ ۔۔۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ تو انھوں نے کہا: ۔۔۔ وہ ایک ایسا انسان تھا جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کا علم دیا تھا لیکن وہ رات کو پڑا سوتا رہتا اور دن میں اس پر عمل نہیں کرتا تھا۔ اسے یہ عذاب قیامت تک ہوتا رہے گا‘‘۔ (صحیح بخاری: 1386) 

جو قرآن حکیم پر عمل کرے گا، اُس کے اور اُس والدین کے پاؤں کے نیچے فرشتے پر بچھاتے ہیںا ور جو عمل نہ کرے، قرآن فروشی کرے تو اُس کے لیے پتھر والا فرشتہ تیار ہے۔ اس لیے دونوں باتیں (ثواب اور عذاب) سامنے رکھ کر اپنی نیت درست کریں، اپنے آپ کو درست کریں تو یقینا اس نورِ الٰہی سے ہم سب فیض یاب ہوں گے۔ اور اگر ہمارے اَخلاق درست نہ ہوئے، ہماری صلاحیت صحیح نہ ہوئی، تو بڑا ڈر ہے کہ ہمارے ساتھ کیا معاملہ ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن حکیم کے ساتھ سچی وابستگی اختیار کرنے اور اس کے مطابق کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے‘‘۔ (آمین!)

Tags
No Tags Found
Mufti Abdul Khaliq Azad Raipuri
Mufti Abdul Khaliq Azad Raipuri

Spiritual Mentor of Khanqah Aalia Rahimia Qadiria Azizia Raipur

Chief Administrator Rahimia Institute of Quranic Sciences